Wednesday, December 10, 2014

بھائی جنید جمشید صاحب اور امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کے سر میں درد

بھائی جنید جمشید صاحب اور امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کے سر میں درد

81 - احکام کا بیان : (82)
خلیفہ مقرر کرنے کا بیان
حدثنا يحيی بن يحيی أخبرنا سليمان بن بلال عن يحيی بن سعيد سمعت القاسم بن محمد قال قالت عائشة رضي الله عنها وارأساه فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم ذاک لو کان وأنا حي فأستغفر لک وأدعو لک فقالت عائشة وا ثکلياه والله إني لأظنک تحب موتي ولو کان ذاک لظللت آخر يومک معرسا ببعض أزواجک فقال النبي صلی الله عليه وسلم بل أنا وارأساه لقد هممت أو أردت أن أرسل إلی أبي بکر وابنه فأعهد أن يقول القائلون أو يتمنی المتمنون ثم قلت يأبی الله ويدفع المؤمنون أو يدفع الله ويأبی المؤمنون
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2124 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 3
یحیی بن یحیی ، سلیمان بن بلال، یحیی بن سعید، قاسم بن محمد سے روایت کرتے ہیں ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سر کے درد کی شدت سے بولیں، ہائے سر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مر جائے اور میں زندہ رہوں تو میں تیرے لئے مغفرت چاہوں اور تیرے لئے دعا کروں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰعنہا نے عرض کیا کہ میری ماں مجھےگم کرے، اللہ کی قسم، میرا خیال ہے کہ آپ میری موت کی تمنا کرتے ہیں اور اگر ایسا ہوا، تو آخر آپ شام کو اپنی بعض بیویوں کے ساتھ عیش میں مشغول ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ میں ہائے سر کہتا ہوں میں نے قصد کیا، یا ارادہ کیا کہ ابوبکر اور ان کی بیٹی کو بلا بھیجوں تاکہ میں خلیفہ مقرر کروں، تاکہ کوئی کہنے والا یا تمنا کرنے والا تمنا نہ کرے، پھر میں نے کہا کہ اللہ انکار کرے گا اور مومن دفع کریں گے یا اللہ دفع کرے گا اور مومن انکار کریں گے۔
Narrated Al-Qasim bin Muhammad:
'Aisha said, "O my head!" Allah's Apostle said, "If that (i.e., your death) should happen while I am still alive, I would ask Allah to forgive you and would invoke Allah for you." 'Aisha said, "O my life which is going to be lost! By Allah, I think that you wish for my death, and if that should happen then you would be busy enjoying the company of one of your wives in the last part of that day." The Prophet said, "But I should say, 'O my head!' I feel like calling Abu Bakr and his son and appoint (the former as my successors lest people should say something or wish for something. Allah will insist (on Abu Bakr becoming a Caliph) and the believers will prevent (anyone else from claiming the Caliphate)," or "..Allah will prevent (anyone else from claiming the Caliphate) and the believers will insist (on Abu Bakr becoming the Caliph)."

63 - بیماریوں کا بیان : (38)
مریض کا کہنا کہ میرے تکلیف ہے ہائے میرا سر اور مجھے سخت درد ہے اور حضرت ایوب علیہ السلام کا کہنا کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے
حدثنا يحيی بن يحيی أبو زکريائ أخبرنا سليمان بن بلال عن يحيی بن سعيد قال سمعت القاسم بن محمد قال قالت عائشة وا رأساه فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم ذاک لو کان وأنا حي فأستغفر لک وأدعو لک فقالت عائشة وا ثکلياه والله إني لأظنک تحب موتي ولو کان ذاک لظللت آخر يومک معرسا ببعض أزواجک فقال النبي صلی الله عليه وسلم بل أنا وا رأساه لقد هممت أو أردت أن أرسل إلی أبي بکر وابنه وأعهد أن يقول القائلون أو يتمنی المتمنون ثم قلت يأبی الله ويدفع المؤمنون أو يدفع الله ويأبی المؤمنون
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 644 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 3
یحیی بن یحیی ، ابوذکریا، سلیمان بن بلال، یحیی بن سعید، قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی تھیں کہ ہائے میرا سر! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش تو اسی درد میں مبتلارہ کر مرجاتی اور میں تیرے لئے دعائے مغفرت کرتا اور دعا کرتا! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا افسوس واللہ میرا تو خیال ہے کہ آپ میرا مرنا پسند کرتے ہیں اگر ایسا ہوا تو اس کے دوسرے ہی دن آپ اپنے دوسری بیویوں کے ساتھ رات گزاریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں خود بھی درد سر میں مبتلا ہوں اور میں نے چاہا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور ان کو وصیت کروں تاکہ کوئی کنبے والا کچھ کہہ نہ سکے اور نہ کوئی آرزو کرنے والا اس کی آرزو کرسکے پھر میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ دوسرے کی خلافت کو ناپسند کرتا ہے اور مومن ہی اس کو نامنظور نہ کریں گے یا یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دفع کرے گا اور مسلمان بھی پسند نہ کریں گے۔
Narrated Al-Qasim bin Muhammad:
'Aisha, (complaining of headache) said, "Oh, my head"! Allah's Apostle said, "I wish that had happened while I was still living, for then I would ask Allah's Forgiveness for you and invoke Allah for you." Aisha said, "Wa thuklayah! By Allah, I think you want me to die; and If this should happen, you would spend the last part of the day sleeping with one of your wives!" The Prophet said, "Nay, I should say, 'Oh my head!' I felt like sending for Abu Bakr and his son, and appoint him as my successor lest some people claimed something or some others wished something, but then I said (to myself), 'Allah would not allow it to be otherwise, and the Muslims would prevent it to be otherwise".

8 - جنازوں کا بیان : (206)
مرد کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا
حدثنا محمد بن يحيی حدثنا أحمد بن حنبل حدثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحق عن يعقوب بن عتبة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن عاشة قالت رجع رسول الله صلی الله عليه وسلم من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا في رأسي وأنا أقول وا رأساه فقال بل أنا يا عاشة وا رأساه ثم قال ما ضرک لو مت قبلي فقمت عليک فغسلتک وکفنتک وصليت عليک ودفنتک
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1465 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 0
محمد بن یحییٰ، احمد بن حنبل، محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق ، یعقوب بن عتبہ، زہری، عبیداللہ بن عبد اللہ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع سے واپس تشریف لائے تو مجھے اس حالت میں پایا کہ میرے سر میں درد تھا اور میں کراہ رہی تھی ہائے میرا سر۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! میں کہتا ہوں ہائے میرا سر (یعنی میرے سر میں بھی درد ہے) پھر فرمایا اگر تم مجھ سے قبل فوت ہو جاؤ تو تمہارا کیا نقصان میں تمہارا کام کروں گا غسل دوں گا کفن دوں گا اور تمہارا جنازہ پڑھا کر دفن کر دوں گا۔
It was narrated that ,Aishah said: "The Messenger of Allah P.B.U.H came back from Al-Baqi' and I had a headache and was saying: '0 my head!' He said: 'Rather, I should say, 0 my head, o 'Aishah!' Then he said: 'It will not matter if you were to die before me, for I will take care of you, wash you, shroud you, offer the funeral prayer for you and bury you." (Da'if)

1 - مقدمہ دارمی : (647)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
أخبرنا الحكم بن المبارك حدثنا محمد بن سلمة عن ابن إسحق عن يعقوب بن عتبة عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عاشة قالت رجع إلي النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم من جنازة من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا وأنا أقول وا رأساه قال بل أنا يا عاشة وا رأساه قال وما ضرك لو مت قبلي فغسلتك وكفنتك وصليت عليك ودفنتك فقلت لكأني بك والله لو فعلت ذلك لرجعت إلى بيتي فعرست فيه ببعض نساك قالت فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم بد في وجعه الذي مات فيه
سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 80 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک دن رسول اللہ جنت البقیع میں جنازے میں شرکت کرنے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے تو مجھے اس حالت میں پایا کہ مجھے درد تھا اور میں یہ کہہ رہی تھی ہائے میرا سر آپ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ عائشہ رضی اللہ عنہا مجھے یہ کہنا چاہیے کہ ہائے میرا سر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں کیا نقصان ہے اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوجاؤ تو میں تمہیں غسل دوں گا تمہیں کفن دوں گا تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا تمہیں دفن کروں گا۔ میں نے عرض کی ایسا ہی ہوگا اللہ کی قسم اگر میں مرجاتی ہوں تو آپ واپس میرے اس گھر میں آئیں گے اور یہاں اپنی کسی دوسری اہلیہ محترمہ کے ساتھ رہیں گے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادئیے اس کے بعد آپ کو اس تکلیف کا آغاز ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا تھا۔


1 - ا ب ج : (26407)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات
حدثنا يزيد أخبرنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن الزهري عن عروة عن عاشة قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم في اليوم الذي بد فيه فقلت وا رأساه فقال وددت أن ذلك كان وأنا حي فهيأتك ودفنتك قالت فقلت غيرى كأني بك في ذلك اليوم عروسا ببعض نساك قال وأنا وا رأساه ادعوا إلي أباك وأخاك حتى أكتب لأبي بكر كتابا فإني أخاف أن يقول قال ويتمنى متمن أنا أولى ويأبى الله عز وجل والمؤمنون إلا أبا بكر
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 5075 حدیث مرفوع
حضرت عائشہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہورہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ زندگی میں ہو جائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کرکے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے؟ آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہائے میرا سر اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہے گا اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا کہ خلافت کا زیادہ مستحق میں ہوں، اور اللہ اور تمام مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی کو نہیں مانیں گے۔


1 - ا ب ج : (26407)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات
حدثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن عاشة قالت رجع إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم من جنازة بالبقيع وأنا أجد صداعا في رأسي وأنا أقول وا رأساه قال بل أنا وا رأساه قال ما ضرك لو مت قبلي فغسلتك وكفنتك ثم صليت عليك ودفنتك قلت لكني أو لكأني بك والله لو فعلت ذلك لقد رجعت إلى بيتي فأعرست فيه ببعض نساك قالت فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم بد بوجعه الذي مات فيه
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 5834 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے میرے یہاں تشریف لائے ، میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ میری زندگی میں ہو جائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کر کے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے، آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے، پھر مرض الوفات شروع ہوگیا۔


185 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان : (32)
مرض وفات کی ابتداء
وعنها : قالت : رجع إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم من جنازة من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا وأنا أقول : وارأساه قال : " بل أنا يا عائشة وارأساه " قال : " وما ضرك لو مت قبلي فغسلتك وكفنتك وصليت عليك ودفنتك ؟ " قلت : لكأني بك والله لو فعلت ذلك لرجعت إلى بيتي فعرست فيه ببعض نسائك فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم بديء في وجعه الذي مات فيه . رواه الدارمي
مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 570
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کے قبرستان ) بقیع میں ایک جنازہ کودفن کرکے میرے پاس تشریف لائے تو مجھ کو اس حالت میں پایا کہ میں سرکے درد میں مبتلا تھی اور میں کہہ رہی تھی : ہائے میرا سر (پھٹا جارہا ہے ) آپ نے مجھے اس حالت میں دیکھ کر اور میرے یہ الفاظ سن کر فرمایا : عائشہ (تم اپنے کو کیا کہہ رہی ہو) میں کہتا ہوں کہ میرا سر درد کررہا ہے (پھر بڑے پیار سے از راہ مذاق ) آپ نے فرمایا : اس میں نقصان کیا ہے ۔ اگر تم مجھ سے پہلے مرجاؤ تو میں تمہیں غسل دوں گا میں کفناؤں گا میں تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمہیں دفناؤں گا یہ سن کر میں نے کہا اللہ کی قسم یہ تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ابھی سے نظر آرہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا یعنی ایسی نوبت آئی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مرگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تجہیزوتکفین اور تدفین وغیرہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب امور سے فارغ ہو کر میرے گھر واپس آتے ہی اپنی کسی بیوی کے ساتھ شب باش ہوجائیں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ان الفاظ کو سن کر جو میری غیرت وحمیت پر دلالت کرتے تھے مسکرائے اور پھر اسی دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کا سلسلہ شروع ہوا جس میں آپ نے وفات پائی (درامی )

تشریح :

اور میں تمہیں دفناؤں گا " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر حضرت عائشہ ذات رسالت مآب کی موجودگی میں وفات پاجائیں تو یقینا ان کو سعادت وسرفرازی کا وہ خصوصی مرتبہ حاصل ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہنے اور وفات پانے کی صورت میں ان کو حاصل نہیں ہوا ۔
__________________
بلاگ:http://studyhadithbyquran.blogspot.com
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث:"يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
قرآن کے اثر کو روک دینے کیلئے : ہم پہ راویوں کا لشکر ٹوٹا

Tuesday, October 7, 2014

تاریخ میں مسلم امت کے اندر سامراج کے کئی سارے "داعش" مثل


تاریخ میں مسلم امت کے اندر سامراج کے کئی سارے "داعش" مثل

میں اس مضمون میں آجکل عراق میں تیار کردہ فرضی نام سے ابوبکر بغدادی جس کو اسلامی خلافت قائم کرنے کی دعوی سے سامراج نے لایا ہے جسکی مہم سردست دولت اسلامیہ عراق و شام کے نام سے مشہور کی گئی ہے،  ویسے اسکا ہدف حکومت سعودیہ پاکستان بلکہ سارے عالم اسلام میں خلافت قائم کرنا بتایاجا رہا ہے اسکی اسکیموں میں کعبۃ اللہ کو منہدم کرنے کی بات بھی سننے میں آئی ہے ویسے روس کی کسی خبر ایجنسی کے حوالہ سے اخبارات میں اسکا ایک تعارف امریکن سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کے حوالہ سے یہ آیا ہے کہ یہ آدمی اسرائیل میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل کی خاطر تیار کیا گیا ہے اسکی سرگرمیاں اسکے مخفف نام داعش سے میڈیا پر بڑے  پئمانے پر تیزی سے آرہی ہیں۔ اس آدمی نے اتنے بڑے منصب کی دعویٰ کرنے کے بعد اس کے شایان شان کوئی منشور نہیں دیا  کہ اپنی خلافت کے حوالہ سے وہ دین اسلام کے لئے کیا کیا اصلاحات لائے گا وہ بھی کس علم کی روشنی میں لیکن اس نے تو آتے ہی نیٹو سامراج کے منشور کی خاطر کام شروع کردیا ہے۔ یہ اس لئے بھی خلافت کا عہدہ اسلامی تاریخ کا ایک مقدس نام رہا ہے اس لئے سامراج نے اس عہدہ اور لقب کو تاش کے ایک پتے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے یورو اور ڈالر کی جنگ میں استعمال کرنا چاہا ہے۔  میں نے مضمون کے عنوان میں دعوی کی ہے کہ اسلامی تاریخ میں مسلم امت کے اندر سامراج نے قدم قدم پر کئی  "داعش" مثل تحریکوں کے لوگ فٹ کئے ہیں یہ کوئی پہلا داعشی آدمی نہیں ہے، شروع زمانے میں جو "داعش" مثل تحریکی لوگ لائے گئے انکی اکثریت کا انداز یہ تھا کہ یہ لوگ بڑے عالم فاضل  اور دین اسلام کو جاننے اور سمجھنے والے  ہوتےتھے جس علمیت سے وہ قرآن کا رد کرکے روایات کے نام سے متبادل دین بنا سکیں، خود جناب رسول علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں بھی علم حدیث ایجاد کرنے والوں نے ایک کاغذی اور جعلی نام کا  بڑا محدث یہودی شخص مشہور کیا غالبا اسکا نام کعب احبار متعارف کرایاجسکا حقیقی وجود نہیں تھا، جو خود جناب رسول  کو بھی اس سے توریت اور انجیل کے حوالہ جات سے یہود و نصاریٰ کی تعلیم اور مسائل پوچھتے دکھایا ہے گویا کہ حدیث سازوں نے اپنا تیار کردہ یہ یہودی "داعشی" مثل ہمارے رسول کا بھی استاد بنادیا جو جناب رسول کے زمانہ میں بھی یہودی رہتا ہے اس نے ان دنوں اسلام قبول نہیں کیا اور انکے بعد پہلے اور دوسرے خلیفہ کے زمانہ میں بھی یہودی بنا رہتا ہے امت کے یہ بڑے خلفاء  بھی اپنے رسول کی طرح اس سے دینی معلومات حاصل کرتے دکھائے گئے ہیں پھر یہ "داعشی" قسم کا آدمی تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں اسلام قبول کرتا ہے اسکی تفاصیل کو ئی بھی آدمی علم حدیث کے اسماء رجال میں پڑھ سکتا ہے۔ اسکےبعد امت مسلمہ کے اندر دوسرا داعشی مثل فرضی جعلی اور کاغذی آدمی یہودی النسل عبداللہ ابن سبا لایا جاتا ہے جو غالبا پہلے خلیفہ کے زمانہ میں ظاہر ہوتا ہے اور اسکی حدیثیں اس قسم کی ہیں کہ علی اللہ ہے علی آسمانوں میں رہتا ہے بادلوں کی گرج چمک علی کی آواز اور مسکراہٹ ہے (وغیرہ) اسکے بارے میں اسماء رجال والے لکھتے ہیں کہ اسکو علی نے اپنی خلافت کے زمانہ میں گرفتار کروا کر بطور سزا آگ میں ڈال کر جلاکر مروادیا تھا۔ میں شاید ان پہلے دوعدد یہودی "داعشی" مثل لوگوں کے بعد والے "داعشی" لوگوں  کا ، ڈرکے مارے نام نہ لکھ سکوں البتہ یہ ضرور بتاتا ہوں کہ کئی سارے "داعشی" مثل لوگ مجوسیوں میں سے اور عیسائیوں میں سے بھی تیار کئے گئے ، بلکہ پہلا داعشی مثل آدمی حدیث سازوں نے تو ایک عیسائی بنام ورقہ بن نوفل کے فرضی نام سے ایک فرضی شخصیت بتائی ہے، جس نے ہمارے رسول کو اطلاع دی تھی کے آپ نبی بن گئے ہیں یعنی ہمارے نبی کو جبرائیل کے بتانے کے باوجود اپنے نبی بننے کا پتہ نہیں تھا،  پھر آگے ایک دور ایسا بھی آیا جو ابھی تک وہ چل بھی رہا ہے جو "داعشی" مثل لوگ سامراج کو خود مسلم امت کے اندر سے بھی ایک ڈونڈھو ہزار ملتے ہیں کے حساب سے مل رہے ہیں، جس طرح، جس طرح، جس طرح ،فلاں،فلاں، فلاں۔
جناب قارئین! میرے لئے خیر اسمیں ہے کہ تاریخ کے "داعشی" لوگوں کے آپس میں رشتے ناطے بھی ظاہر نہ کروں ویسے یہ حقیقت طئے ہے کہ اگر کوئی بھی دین اسلام کے کسی منصب کا دعویدار اپنے خیالات کا ثبوت قرآن سے نہیں دے گا تو وہ یقین کے ساتھ سامراج کا ایجنٹ ہوگا، اللہ کی جانب سے اپنے رسول کو بھی حکم دیکر پابند بنانا کہ:
فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ (45-50)
 یعنی جن لوگوں کو خوف خدا ہو انکو صرف قرآن سے دین سکھاؤ۔
 اور آپ کے لئے  یہ بھی حکم ہے کہ:
وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا(114-20)
 یعنی کسی مسئلہ کے بتانے میں اگر جب تک علم وحی نہیں ملا ہے تو اتنے تک اپنی طرف سے حدیثیں سنانے میں جلدی نہ کر اگر آپکو جلدی ہو تو مجھے درخواست کر کہ اے میرے رب بڑھا میرے علم کو۔
 اسلئے جان لینا چاہیے کہ رسول سے بڑھکر کوئی ایسا آدمی نہیں ہوسکتا جو دین کے لئے قرآن کے علاوہ دوسرے مأخذوں سے دین سمجھائے،  یہ چیز کس سے مخفی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر آپس میں جو قتل وغارت اور خونریزیاں ہوئی ہیں ان میں بڑا حصہ اور وافر مقدار مذہبی فرقہ جاتی اختلافات کا ہے اور قرآن کا یہ اعلان کون نہیں جانتا کہ:
أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا (82-4)
 یعنی فرقہ جاتی مسائل اور اختلافی امور اللہ کے قرآن سے باہر کے علوم کی پیداوار ہیں، مطلب کہ اسلام کے نام سے جتنے بھی فرقے مارکیٹ میں موجود ہیں وہ سب کے سب علم حدیث کی پیداوار ہیں کسی بھی فرقہ کی بنیاد قرآن پر نہیں ہے اتنے تک جو مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اپنی خود ساختہ نبوت کا دلیل  بھی علم حدیث سے ماخوذ کردہ ملا ہے، پر انے دنوں کی بات ہے جو شہر پڈعیدن میں کوئی میرے سامنے حضرت علی کا ذکر قرآن کے حوالہ سے کر رہا تھا میں نے اسے کہا کہ قرآن میں علی سمیت کسی اصحاب رسول کا نام نہیں ہے تو وہ غصہ میں لال پیلا ہوگیا کہ وہ قرآن ہی کیسا جس میں علی کا نام نہ ہو میں نے اسے ادب سے ٹھنڈے دماغ سے سمجھایا کہ ہمارے واعظین مولوی صاحبان جب قرآن پڑھکر آگے کسی کے قصے بتاتے ہیں تو لوگ بعد کے ناموں کیلئے سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ بھی اسکے پڑھے ہوئے قرآن کا ترجمہ ہے۔ صدام کو ہٹانے اور پھانسی پر چڑھانے کے بعد جو شخص ملک عراق کا صدر بنایا گیا ہے یہ یقینا اس طاقت کا منظور نظر ہے جس نے صدام کو ختم کیا تو اب اسکی حکومت میں جو ابوبکر بغدادی داعش کے تعارف سے آیا ہے اسکے خلاف موجودہ عراقی صدر کا کوئی تنازع سننے میں نہیں آرہا  یہ بعینہ اسیطرح ہے جس طرح  انڈو نیشیا کے صدرسوئکارنو کو عالمی سامراج نے ہٹاکر اسکی جگہ داعشی مثل پٹھو صدر سوہارتو کو بٹھایا تھا جسکے دور میں ملکی انتظامات کی باگ ڈور بڑی حد تک عیسائی گرجاؤں کے پادریوں کو دی گئی تھی جسکے نتیجہ میں انڈونیشیا کی آدھی آبادی عیسائی بن گئی پھر اس عیسائی آبادی کیلئے مذہب کے بنیاد پر انڈونیشیا کو دوٹکڑے کرکے ایک حصہ مشرقی ٹیمور کے نام سے جدا عیسائی ملک بنا کر اسے اقوام متحدہ کی ممبرشپ بھی دلائی گئی سو اب جو داعش کے فوجیوں یا طالبانی رضاکاروں کے ہاتھوں میں رائفلیں اور مشین گنیں دکھاکر آگے لاشوں کے ڈھیر دکھائے جاتے ہیں یا زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگ دکھائے جاتے ہیں اور فوٹوز کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ یہ عیسائی اور شیعے لوگ ہیں جن کو خلافت اسلامیہ قائم کرنے کے لئے مارا جارہا ہے تاکہ مسلم دنیا کے عیسائی اور شیعہ دشمنوں کی حمایت لی جاسکے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نیچے لکھی ہوئی عبارت درست ہے اگر درست بھی ہو پھر بھی میں یقین کے ساتھ دعویٰ کررہاہوں کہ یہ لوگ عراق کے وہ نیشنلسٹ شہری ہیں جنہوں نے صدام کے دنوں میں نیٹو افواج کے مقابلہ میں جنگ لڑی تھی اب انکو عیسائی اور شیعہ کہکر مارا جارہا ہے جس سے دنیا والوں کو دھوکا دیا جائے کہ نیٹو نامی سامراج کبھی کا چلا گیا ہےاب تو عراق میں اسلامی خلافت قائم کرنے کیلئے یہ جنگ مسلمان لیڈر ابوبکر بغدادی لڑ رہا ہے تاریخ نے ہمیں بتایا ہے کہ مسلم امت کے مرکز مسجد نبوی میں کرنل لارینس عیسائی انگریز فرضی نام سے سات سال پیش امام بنا رہتا ہے تو اس ابوبکر بغدادی کا شجرہ کونسا مقدس تسلیم کیا جائیگا تاریخ کو کھنگالاجائے تو خود سعودی خاندان اور انکا شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب یہ بھی اپنے دور کے عالمی سامراج کے داعش مثل لوگ ہیں میری اس دعویٰ کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت سعودیہ کے پبلشنگ ادارہ مجمع  ملک فہد کی سرپرستی میں قرآن حکیم کے اندر لفظی اور حرفی ملاوٹ کے تین عدد نئے ماڈل والے قرآن تیار کئے گئے ہیں جن میں سے البوزی نام سے ملاوٹ والا قرآن میرے پاس  نیٹ میں محفوظ ہے کوئی بھی اپنی نیٹ کی آئی ڈی دیکر طلب کرسکتا ہے  اور محمد بن عبدالوہاب کے پیروکار لاہوری اہل حدیثوں نے قرآن حکیم میں ملاوٹ حرفی اور لفظی کے سولہ عدد نئے قرآن تیار کئے ہیں جن کے لئے انکا کہنا ہے کہ یہ ہم حکومت سعودیہ کو چھاپنے کے لئے دینگے اسلام کے شروع زمانہ میں قرآنی تعلیم کا غلبہ تھا اور علم حدیث اتنا مستحکم ہو نہیں پایا تھا جو اس علم کی پیداوار فرقوں کے مؤسس کھل کر کام کرسکیں اور خود کو علانیہ آل رسول بھی کہلا سکیں! اسلئے انہوں نے تقیہ کا ہنر ایجاد کیا تھا جو آج تک انکے کتابوں میں موجود ہے یہ بات میں صرف اثنا عشری مارکہ شیعوں کی نہیں کہہ رہا میں نے تو اہل سنت کے چاروں اماموں کے لئے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں پڑھا ہے کہ اہل سنت کے چاروں امام مخلص شیعے تھے اور امام بخاری نے بھی تقیہ کو جائز لکھا ہے آج کل جماعت اسلامی اہل حدیثوں پر بڑی مہربان ہے یہ لوگ کوئی تقیہ شقیہ نہیں کر رہے جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن صاحب نے کھل کر کہا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کے مقابلہ میں مرنے والے طالبان کو میں شہید قرار دیتا ہوں مجھے اہل حدیث خاندان کے ایک مہربان نے کہا کہ آج کل ہم اہل حدیث لوگ آئی ایس آئی کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں اب جو اخباروں نے لکھا ہے کہ پشاور میں طالبان کے ذریعے ابوبکر بغدادی "داعش" کے پمفلیٹ پشتو زبان میں تقسیم کئے گئے ہیں اور یہ بھی اخبارات میں آیا ہے کہ مدعی خلافت اسلامیہ ابوبکر داعش نے امریکی صحافی جو انکے پاس قید تھا اسکے آزاد کرنے کے بدلہ میں جماعت اسلامی کی ممبر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تو امریکا نے اسے آزاد نہیں کیا تو "داعش" نے قید امریکی صحافی کو قتل کرڈالا، ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ مذکورہ انکشافات سے کچھ پہلے میں نے یہاں سندھ کے قوم پرستوں میں لیکچر کے دوران کہا کہ میں آپکو کھل کر کہہ رہا ہوں کہ پہلے میں پاکستان کا ضرور مخالف رہاہوں لیکن اب جو دیکھ رہا ہوں کہ عراق کے بعد افغانستان اور اسکے بعد پاکستان بالخصوص سندھ میں جو کئی صوبے بنانے کی آڑ میں کل والا عالمی سامراج ہمارے سمندر کنارے خود آکر پھر براجمان ہونا چاہتا ہے تو کل ہمارے بڑوں نے ان گوروں سے آزادی کی خاطر کئی ساری جنگیں لڑی تھیں اتنی لڑائیاں ہم تو نہیں لڑ سکیں گے اگر بالفرض سامراج کے آنے کے بعد ہم نے پھر آزادی مانگی بھی تو دنیا ہم سے پوچھے گی کہ تم لوگوں کو جو گذشتہ ستر سال آزادی کے ملے تو تم نے اپنے لئے اس میں کیا کیا سو آج تم جب خود کو نہ بچا سکے اور اپنی آزادی خود بیچ کر پھر کس منہ سے دوبارہ آزادی کا نعرہ لگاتے ہو تو ہم اس دن کیا جواب دیں گے۔ سو پاکستان جیسا بھی ہے پہلے اسے بچائیں پھر ہم اپنے بندوق بردار لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ تم لوگ سیاسی نہ بنو تم لوگوں کے سیاسی بننے کے عرصہ میں ہم نہ لال قلعہ دہلی فتح کرسکے نہ ہی سیاچین کی برف پوش پہاڑیاں اپنا سکے بلکہ بنگال گنواکر نوے ہزار فوجی بھی قید کرا بیٹھے مجھ سے میرے لیکچر کے دوران یہ بھی سوالات ہوئے کہ آپ یہ نئی پالیسی جو اپنے لئے یا ہمارے لئے دے رہے ہیں تو جن حکمرانوں سے ہم کل کو پاکستان بچانے اور پاکستان کے نام سے ملی ہوئی آزادی کو بچانے کی باتیں کریں گے کیا گارنٹی ہے کہ وہ آزاد ملک کے آزاد حکمران ہیں؟ یہ حکمران طالبان کو جنم دینے والے طالبان کے مقابلہ میں فوجی کے مرنے کو شہید نہ ماننے والے منور حسن سے کوئی باز پرس نہ کرسکے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فوجیوں میں اغیار کے ایجنٹ ہیں سو وہ پاکستان بچانے کیلئے ہم سے کیوں بات کریں گے ہم تو داعشی طالبانی پاکستان کو ماننے والے نہیں ہیں اگر پاکستان کی اسٹبلشمنٹ مستقبل میں داعشی منصوبہ کے خلاف ہے جو عالمی سامراج نے جان پوپ پال کے اعلان کہ اکیسویں صدی دنیا میں عیسائیت کے غلبہ کی صدی ہوگی اسکے اس اعلان کے بعد صرف مسلمان انڈونیشیا سوڈان صومالیہ نائیجیریا عراق افغانستان مصر لیبیا میں قتل ہورہے ہیں اور مسلم ریاستیں عیسائی ممالک کے نام سے اقوام متحدہ کی ممبر شپ لے رہی ہیں تو ایسے قیامت خیز معاملوں پر پاکستان اسٹبلشمنٹ نے کونسی اسلام دوستی دکھائی ہے ہمیں تو پاکستان سرکار کی ایسے معاملات پر خاموشی اور سامراج کی مسلم کش اسکیموں پر چپ رہنے سے لگتا ہے کہ یہ سب مل کر  جان پوپ پال بینی ڈکٹ کی پیشگوئی کو کامیاب کر ا رہے ہیں یہ دنیا میں عیسائیت کو غلبہ دلانے کی خاطر ڈبل نوکری کر رہے ہیں ہمیں اگر اعتماد آجائے کہ ہماری وردی پوش اسٹبلشمنٹ گورے سامراج کے خلاف ہے اور ہم کالوں کی وفادار ہے تو ہمیں پاکستان سے کیوں اختلاف ہوگا سو ملکی اسٹبلشمنٹ کی گورے سامراج کے لئے چمچہ گیری کی وجہ سے تو ہمارے بلوچ بھائی کہہ رہے ہیں کہ ہم چمچوں کے چمچے کیوں بنیں اس  سے اچھا ہے کہ براہ راست  ہم بھی انکی طرح دیگ کے چمچے بنیں، پاکستان کے حکمرانوں کو لاہور کے شاعر حبیب جالب نے بہت کہا کہ ہم لڑیں امریکیوں کی جنگ کیوں ۔ لیکن یہ ہیں مثل بیگانہ شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ پاکستان بنایا ہی اسلئے گیا ہے کہ یہ پرائی لڑائیوں میں سامراج کو کندھا دینے کیلئے ہر وقت حاضر رہے اور وہ بھی اسلام کے نام پر، اب جو ملک شام کے محاذ پر یورو اور ڈالر کی جنگ لگنے والی ہے اس میں اسرائیل اور امریکہ کا پروردہ ابوبکر بغدادی خلافت اسلامیہ کے قیام کے نام کے حوالہ سے اس جنگ کو کفر اسلام کی جنگ کا نام دینے کی ابتدا کر چکا ہے۔ کل کو امریکہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مارکسزم کے معاشی نظریہ کو مسلم ممالک کے مفتیان اسلام سے کفر کی فتوائیں دلاکر سرمایہ دارانہ نظام کی فتح کرا چکا ہے اب شام کے خلاف اسکی یہ جنگ ڈالر کو بچانے کے لئے یہ بھی اسلام کے نام پر دوسری جنگ ہوگی اس میں بھی اس جنگ کو مذہب کا لبادہ اوڑھانے کے لئے داعشیوں کی ساتھی جماعت اسلامی اور پاکستانی آرمی کے پروردہ طالبان کاتعاون کہیں در پردہ اور بالواسطہ اور کہیں ظاہر اور بلاواسطہ نظر آرہا ہے۔
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا(6-66)
 یعنی اے امن عالم کے ذمہ دار مؤمنو! خود کو اور اپنے نظریاتی ساتھیوں کو (زر کے استحصال اور ذخیرہ اندوزی کی) آگ سے بچاؤ۔
 قرآن حکیم نے لفظ اہل کی ایک معنی نظریاتی ساتھی بھی بتائی ہے  ۔ (46-11)
 سو ہمارے ملک پاکستان کے ناخدائوں نے اپنے لئے نیٹو کی رجیم کو اپنا نظریاتی سرپرست بنایا ہے پھر نیٹو والے چند ڈالروں کے عوض ان سے مسلسل ملک کی نوجوان نسل ذبح ہونے کے لئے خرید کرتے ہیں۔ ملک کے سربراہوں کو ہمارے مقامی خفیہ حکمران باہر کے دوروں پر بھیجتے ہیں کہ دنیا کے سرمایہ داروں کو منت سماجت کرکے کہیں کہ ہم بکاؤ مال ہیں ہمارے ملک کے سارے اثاثے بکاؤ مال ہیں، جو چاہو ہم اپنی چیزیں آپکے قدموں میں رکھنے کے لئے تیار ہیں، ہماری ہر چیز برائے فروخت ہے، بولو! کیا کیا خریدو گے، جناب یہ ہے ہمارا ملک پاکستان جو دنیا میں مسلم ممالک کا چیمپین ہونے کا مدعی ہے۔
 جناب قارئین! ہمارے اس جیسے ملک کو عالم اسلام کا چئمپین بننے کا چکمہ بھی اسلئے دیا گیا ہے جو انکے ہاں پروردہ طالبان تنظیم اسلام کے نام پر اپنوں کو مارنے کے لئے ہر وقت تیار ہے ان اسلام کے ٹھیکیداروں نے داعشی تحریک کے خلاف تفصیل کے ساتھ کچھ بھی نہیں بولا وہ اسلئے کہ مسلم امت کے اند ر اس قسم کی مذہب کے نام پر بنی ہوئی سیاسی، تبلیغی اور جہادی تنظیمیں سب کی سب اپنوں کو یعنی مسلم امت والوں کو کافر بنا بنا کر مارنے کے لئے تیار کی گئی ہیں، جس کے ساتھ آنجہانی جان پوپ پال بینی ڈکٹ کی دعوی کہ اکیسویں صدی دنیا میں عیسائیت کے غلبہ کی صدی ہوگی کو ایسی اسلامی تنظیموں کے ہاتھوں مسلم لوگوں کو بے دین اور کافر کہہ کہہ کر اتنا تو دیوار سے لگائیں جو وہ مجبور ہوکر عیسائی بن جائیں کیونکہ جب وہ عیسائی بن جائیں گے تو انکو ملک کی کوئی بھی مذہبی تنظیم چھ کلمے پڑھانے کی تبلیغ نہیں کریگی اور نہ ہی انکی عورتوں کو برقعہ نہ پہننے پر سزادیگی۔
 جناب قارئین! میں نے شروع مضمون میں جو عرض کیا کہ عالمی سامراج نے فکر قرآن اور متن قرآن کو دنیا سے مٹانے کے لئے ہر دور میں داعشی مثل لوگ اسلام کے اندر ملت اسلامیہ میں مذہبی برقعوں میں بھیجے تھے انکو ملمع سازیوں اور تقدس کے چوغوں میں اتنا تو چھپایا جو کسی کے لئے لکھا کہ اس امام نے چالیس سالوں کی راتوں میں عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور نوافل کی عبادت میں رات کو پورے قرآن کا ختم پڑھا، اور چالیس سالوں کے سارے دنوں کے روزے رکھے اور کسی امام کے نام سے یہ مشق بیس سال کی لکھی ہے کسی امام کے اللہ سے ہمکلام ہونے کی باتیں لکھی گئی ہیں اور کئی اماموں کے پاس ملائکوں کے آنے جانے کے قصے لکھے ہوئے ہیں اب سادہ اور علم و عقل سے پیدل لوگ ایسے داعشی قسم اماموں کے اتنے تو معتقد ہوگئے ہیں جو ماضی کے ایسے برقعہ پوش داعشیوں کے پول کھولنے پر لوگ لڑنے کو آجاتے ہیں۔
ابھی جو سامراج ٹارزن کی واپسی کی طرح پھر سے بوریا بستر لارہا ہے جس کے لئے اس نے ہماری دھرتی کے خزانوں کی لوٹ مار کی کامیابی کے لئے پیشگی ہمارے ملک میں صوفی ازم کو اپنی تاش کے دوسرے پتے کے طور پر پھینک چکا ہے ایک طرف صوفی ازم نظریہ کی یونیورسٹیاں کھولنے کا پروگرام ہے دوسری طرف ان کی سرپرستی طاہرالقادری جیسے صوفی کو دینے کا پروگرام ہے جو اپنے ادارہ منہاج القرآن لاہور میں جناب رسول علیہ السلام کو ہوائی جہاز کے ذریعے لاکر چائے پلاتا ہے "العیاذ بااللہ" اور تصوف کی تعلیم کے سلیبس کا بنیاد اس پر ہوگا کہ غریبی اور امیری اللہ کے ہاتھ میں ہے، دنیا میں جوبھی کچھ ہورہا ہے وہ سب اللہ کی مرضی کے مطابق ہورہا ہے، اس میں کسی کا کوئی دخل نہیں دینا چاہیے۔
امت مسلمہ کی ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ میں جتنے بھی داعشی قسم کے لوگ اور انکی تبلیغی اور سیاسی اور جہادی تنظیمیں گذری ہیں ان کے سامراجی فرستادہ ہونے کا دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ دین کی تعبیر کے لئے بجائےقرآن کے امامی علوم اور علم روایات کو دین کا اصل قرار دیا ہوا ہے۔ جبکہ خود جناب خاتم الانبیاء جیسی ہستی کو بھی حکم دیا ہوا ہے کہ قرآن کے ملنے سے پہلے اپنی طرف سے حدیثیں بیان نہ کیا کرو (114-20) اور دین صرف قرآن سے پیش کرو (45-50) اگر میرا  یہ رسول اپنی طرف سے قوانین دین  کے لئے اپنے اقوال پیش کرے گا تو ہم اسے طاقت سے پکڑ کر اس کے سانس لینے والی رگ کو کاٹ دیں گے۔ (44-69

انکی اصل جنگ قرآن سے ہے۔

عالمی سامراج نے ماضی کے اندازا ڈیڑھ ہزار سال میں دنیا سے قرآن کو ختم کرنے کی ان گنت سازشیں کیں اور خود مسلم امت کے فرقوں کی معرفت خلاف قرآن کئی مہمیں چلائیں اور ہفوات سے بھر پور بے معنی اور پھس پھسے قسم کے اعتراضات اور شوشے چھوڑے پھر بھی قرآن کامتن اللہ کے اعلان کے مطابق (9-15) میدان علم میں ڈٹا ہوا ہے سو پریشان ہو کر قرآن دشمن نیٹو برادری نے ایک طرف سعودی حکومت مصری حکومت کو یتی حکومت، اور پاکستانی اہل حدیثوں کے ہاتھوں قرآن حکیم میں فن قرائت کے بہانے  قرآن میں ملاوٹ کرکے اصلی محمدی نسخہ قرآن کو دنیا سے ہٹانے اور مٹانے کی کوشش کی ہے ،پھر دوسرے نمبر پر امت مسلمہ میں خفیہ فنڈوں سے تنخواہوں سے اور پرتعیش آسائشوں اور اختیارات سے نیز حکومتی تحفظ سے ایسے ایسے تبلیغی اور جہادی لوگ لائے گئے ہیں جو عام امن پسند لوگوں کو کبھی ناموس رسالت کی ہتک کا الزام لگا کر قتل کردیتے ہیں جس طرح پنجاب کا گورنر سلمان تاثیر مارا گیا اور کئی لوگوں کو اس طرح کے الزامات سے گرفتار کرکے قید کرایا گیا اور ان کو عدالت سے سزائیں دلائی گئیں اور جن ججوں نے ایسے ملزموں کو سزائیں نہیں دی تو ان کا پاکستان میں رہنا محال بنایا گیا اور وہ جج ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے سابق صدر پاکستان آصف زرداری کوکسی نے کہا کہ قرآن حکیم کے دلائل:
 لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (256-2)
 لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6-109)
 وغیرہ سے یہ بلاسفیمی لا غلط ہے اسے اسمبلی میں ان آیات کریمہ کے حوالہ سے منسوخ کرایا جائے تو جواب میں صدر صاحب نے کہا کہ قرآن کی یہ آیات برحق ہیں انکے حوالہ سے قانون بھی غلط ہے لیکن اسمبلی کے اندر اس قانون کو چئلنج کرنا ملک کی مذہبی پیشوائیت کی رضامندی کے بغیر مشکل ہے یعنی چہ جائیکہ ہاؤس کی اکثریت بھی قرآن کے دلائل کا ساتھ دے گی پھر بھی ہم یہ بل اسمبلی میں ملاؤں کی رضا کے بغیر مووبھی نہیں کرسکتے اس سے ثابت ہوا کہ ملک کی مذہبی پیشوائیت قرآن دشمن عالمی طاقتوں کی لے پالک ہے۔ اور باخبر لوگ جانتے ہیں کہ یہ بل ذوالفقار علی بھٹو سے اس کے اقتدار کو طول دینے کی لالچ دیکر نافذ کرایا گیا تھا جسے بعد میں ضیاء الحق نے بھی توثیق بخشی تھی۔ اب جو ابوبکر بغدادی نے خلافت اسلامیہ قائم کرنے کے اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ میں کعبۃ اللہ کو منہدم کروں گا تو اس کو یہ ہدف آخر کس نے دیا ہوگا؟ ہمیں تو یاد ہے کہ ہمفرے نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ برطانیہ سرکار کی جانب سے محمد بن عبدالوہاب کو شیخ الاسلام (داعشی مثل) بناتے وقت جو جو قبور اور گنبد مسمار کرنے کی لسٹ دی گئی تھی ان میں روضہء رسول بھی شامل تھا اس نے جب سوا ئے روضہ رسول کے اور سب گرائے تو اس کے نگران خفیہ انگریز جاسوس افسر نے اسے کہا کہ باقی یہ روضہ رسول بھی مٹادو! تو محمد بن عبدالوہاب نے کہا کہ یہ کام کرنے سے پھر ترک حکمران مجھے مار ڈالیں گے۔ اور ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ بارک اوبامہ نے اپنی پہلی صدارتی الیکشن کے کسی جلسہ میں کہا تھا کہ میں اگر امریکہ کا صدر ہوجاؤں گا تو مسلم لوگوں کے شہر مکہ کا مرکز کعبہ مسمار کردوں گا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوبا مہ کو ان دنوں معلوم ہوا ہوگا کہ انکی سی آئی اے کی طرف سے کعبۃ اللہ کو مسمار کرنے والا ابوبکر بغدادی ابھی اسرائیل میں زیر تربیت ہے تھوڑے ہی عرصہ میں اسے خروج کرایا جائے گا۔
محترم قارئین! عالمی سامراج امت مسلمہ سے 132 ہجری تک قرآن حکیم چھیننے میں کامیاب ہوا، اس کے بعد سے جو مخالف قرآن علوم کی یلغار ہوئی ہے اس کے ذریعے آج تک ہمارے ساتھ سامراج جو حشر کر رہا ہے صدیوں سے ہم اس کے بچہ جمبھورا، آجا، آگیا، کی طرح فرمانبردار بنے ہوئے ہیں۔
ہیں  کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
تقسیم ہند سے پہلے پاکستان بنانے کیلئے سر سید احمد خان کے فرضی حوالہ جات سے اور علامہ اقبال، علامہ پرویز کی معرفت لاف زنیاں کی جاتی رہیں کہ مسلم امت کیلئے جب یہ عظیم الشان مملکت پاکستان معرض وجود میں آئیگی تو ہر طرف قرآن کی تعلیم اور برکات کا دور دورہ ہوگا، سر سید پاکستان کیلئے  علامہ اقبال کا خواب دیکھنے سے کوسوں پہلے مرچکے تھے اور وہ ہندستان کے بٹوارے کے قائل بھی نہیں تھے اور علامہ اقبال بھی خواب دیکھتے ہی چل بسے تھے اور علامہ پرویز نے ملک بننے کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں گلبرگ لاہور میں واقع  بزم طلوع اسلام کی چار دیواری کے اندر پس دیوار زندان کی طرح محصور رہنے میں اپنی عافیت سمجھی کہ کہیں قرآن کا نام لینے کے جرم میں اسے قتل نہ کیا جائے اور جو علامہ مودودی صاحب تحریک  آزادی کیلئے انگریزوں کے خلاف ہلچل کے وقت قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے قیام مملکت کے فی الفور بعد اسے پاکستان میں اسلام کو قائم کرنے کی تحریک کا چیمپین بنایا گیا پھر جو مالک کے مخفی مقاصد کے انگریزوں کی طرف سے ذمہ دار لوگ تھے انہوں نے 1940ء کی قرار داد مقاصد پاکستان سے انحراف اور غداری کرنے کیلئے مذہبی پیشوائیت کا سہارا لیا اور 1949ء مارچ میں حاجی مولابخش سومرو کے مکان پر کراچی میں ملک کے جملہ مذہبی فرقوں کے مولوی حضرات کو مدعو کیا گیا کہ وہ ملکر متحدہ اسلام کے نام سے مقاصد کی فہرست تیار کریں پھر انکو کاریگروں کی رہنمائی میں ایسی ہدایات دی گئیں جو وہ مقاصد  ون یونٹ سے بھی بدتر ثابت ہوئے پھر انکو قرارداد مقاصد پاکستان کا نام دیا گیا جو آج تک بننے والے جملہ آئینوں کا روح ہے مجھے اس قصہ سے ملک کی مذہبی پیشوائیت کی اصل تصویر اور مصرف پیش کرنا مقصود ہے، جس کو سامراج کے آج کے داعش مثل سمجھا جاسکتا ہے مجھے ان کے سامراج سے باطنی روابط کا قارئین کو علم دینا ہے اس اجتماع میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرحوم مولانا محمد علی جالندھری صاحب بھی شریک ہوئے تھے میرے اس کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں جن کا تفصیل نہیں لکھ رہا جو وہ بے محل ہوگا اس نے میرے ساتھ بیان کیا کہ اس میٹنگ کے موقعہ پر اصل کارروائی کے سواء کی مجلس میں میں نے مودودی صاحب کو کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ چودھری محمد علی کو پاکستان کی وزارت عظمی کے عہدہ سے ہٹا رہی ہے تو جواب میں مودودی صاحب نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور جب تک امریکہ نے مجھ سے نہیں پوچھا تو وہ اسے کس طرح ہٹا سکتی ہے۔
 اب قارئین لوگ بتائیں کہ کیا داعش مثل ایجنٹوں کو کوئی سینگ تو نہیں ہوتے، میں قارئین کی خدمت میں ہردور کی داعش مثل لوگوں اور تنظیموں کا تعارف طوالت مضمون کی وجہ سے پیش نہیں کرسکوں گا، غالبا 1952ء میں قادیانیوں کے خلاف انہیں اقلیت میں قرار دینے کی ملک بھر میں تحریک چلائی گئی تھی جس میں لاکھوں لوگ گرفتار ہوئے تھے ملک کے سارے جیل اتنے تو بھر گئے تھے جو ان میں مزید قیدیوں کی گنجائش نہیں رہی تھی پھر احتجاج کرنے والوں کو باہر میدانوں میں خاردار تاروں میں قید کیا گیا اور شہر لاہور میں اس تحریک کا ایک بڑا احتجاجی جلوس نکلا جن پر مال روڈ سے گزرتے وقت جنرل اعظم خان نے گولی چلانے کا حکم دیا تو چند گھنٹوں میں دس ہزار سے زائد لوگ قتل ہوگئے پھر قائدین تحریک کو گرفتار کرنے کے بعد انپر جو مقدمہ چلایا گیا جن کے اندر کئی عالموں کے ساتھ مودودی صاحب بھی گرفتار ہوئے تھے عدالت میں عطاء اللہ شاہ بخاری کا بیان تھا کہ یہ جو دس ہزار لوگ قتل ہوئے ہیں یہ سب میری طرف سےتحریک چلانے کی وجہ سے ہوئے ہیں میں ان سب کے قتل ہونے کا ذمہ دار ہوں میں نے یہ کام اپنے نانا محمد الرسول اللہ کی ختم نبوت کو بچانے کے لئے کیا ہے میں اس جرم کا اقرار کرتا ہوں اگر یہ جرم ہے تو مجھے پھانسی دی جائے میری نظر میں میرے نانا کی ختم نبوت دس ہزار لوگوں کے قتل سے زیادہ قیمتی ہے عدالت کے اسی کٹھڑے میں دوسرے ملزم مودودی صاحب کو جب کھڑا کیا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے اس تحریک ختم نبوت کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے مجھے مال روڈ کے جلوس اور اموات کے معاملہ میں گرفتار کرنا ایسا ہے جیسے کوئی آدمی روڈ سے پرے ہٹ کر کھڑا ہو اور ڈرائیور گاڑی کا اسٹیرنگ موڑ کر نیچے کھڑے ہوئے اس آدمی پر گاڑی چڑھادے آگے چل کر مولوی لوگوں نے مودودی صاحب کے ایسے موقف پر اس کے اسلامی حیثیت کو چیلنج  کیا اور اس کو مرزائیوں کا ساتھی کہنا شروع کیا جس سے اس کے لئے آگے چل کر اسلامی تحریک کا چیمپین بنا رہنا مشکل ہوگیا سو کچھ دنوں بعد اس نے مسئلہ ختم نبوت کی حمایت میں ایک پمفلٹ لکھا جس کی وجہ سے اسے گرفتار کرکےعدالت نے مسئلہ ختم نبوت کی حمایت میں پمفلٹ لکھنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنادی پھر مودودی صاحب کی جماعت نے پھانسی کے فیصلہ کے خلاف جو تحریک چلائی اس سے مودودی کی گری ہوئی ساکھ  کوسود سمیت سہارا مل گیا ۔لوگوں نے شاید اس طرف کم ہی توجہ کیا ہوکہ جو عطاء اللہ شاہ بخاری دس ہزار لوگوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے لئے جج کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہا تھا اسے تو پھانسی نہ دی گئی لیکن مودودی صاحب کو ایک مضمون لکھنے پر پھانسی سنادی گئی  60-1959ء میں میں مدرسہ دارالہدیٰ ٹھیڑہی میں پڑھتا تھا وہاں کے شیخ الحدیث مولانا غلام قادر میمن نے اپنے پاس رکھا ہوا ایک پرانا رسالہ دکھایا جو لائل پور (فیصل آباد) کے کسی اہل حدیث تنظیم کے عالم کی ادارت میں نکلتا تھا اس میں یہ بات لکھی ہوئی  تھی کہ مودودی صاحب جس دن رسالہ ختم نبوت کے مسئلہ لکھنے پر گرفتار کئے گئے تھے اسی تاریخ کی رات کو وہ ملک کے وزیر اعظم چودھری محمد علی کے ساتھ رات کے دوبجے تک محفل کرتے رہے ہیں اور آنیوالے دن کی صبح کو گرفتار ہوئے ہیں اور پھر کچھ کارروائی کے بعد اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی میں نے ایک ملاقات میں پیر صاحب پگارا مرحوم سے کہا کہ آپ اس پہلی ختم نبوت تحریک پر تبصرہ کریں تو انہوں نے بتایا کہ یہ درپردہ تحریک چودھری محمد علی نے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین بنگالی کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے چلائی تھی خواجہ صاحب کو مرزائی نوازی کا الزام دے کر۔۔۔ اس کے سواء اس تحریک کا کوئی بھی اور مقصد نہیں تھا۔آج یہ مضمون بتاریخ 2014-09-26 لکھتے وقت سے اندازا ایک ہفتہ قبل ایک خبر اخبارات میں آئی کہ ابوبکر بغدادی داعش کے سربراہ ایک حملہ میں مارے گئے میں نے خبر پڑھتے ہی وہاں موجود کسی ساتھی سے کہا کہ یہ خبر سراسر جھوٹی ہے اور امریکہ کی داعش سے دشمنی جتوانے کے لئے چلائی گئی ہے اور اس خبر سے وہ داعش کے حامیوں کے اندر بھی اس کی اہمیت بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاریخ سامراج کے ایسے داعش مثل لوگوں پر جڑتو اور نوراکشتی والے قاتلانہ حملوں اور پھانسیوں کی خبروں اور واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ امام خمینی جب شاہ ایران کے خلاف اپنے انقلاب کو کامیاب کرکے ملک ایران کا بادشاہ اور بادشاہ گر بنا تھا تو ان دنوں جناب مودودی صاحب کا بیان پاکستان کی ایک اخبار میں چھپا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خمینی کے آنے کے بعد اپنی مشن کیلئے مجھے اپنے مرجانے کا افسوس نہیں ہوگا۔
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز۔۔۔۔ کبوتر با کبوتر باز با باز
جناب قارئین! اصل بات یہ ہے کہ کسی بھی مدعی اسلام جو کسی بھی جہادی، تبلیغی، سیاسی حوالہ سے مذہب کے پلیٹ فارم پر کوئی بھی دعویٰ کرنے والا ہو اس کو صرف اور صرف خالص قرآن کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا تو اس کے کھرے اور کھوٹے ہونے کی خبرلگ جائے گی ورنہ رائج الوقت مدعیان تحریکات اسلامیہ کا مدار صرف علم روایات اور امامی علوم پر ہے جو وہ بھی خلاف قرآن علوم ہیں اور ان تحریکوں کے بانیان کا قبلہ استحصالی سامراج کی طرف ہے ان سامراجی داعشین زمانہ سے قرآن کے علاوہ کوئی بھی علم آپکو چھڑا نہیں سکے گا۔

عزیزاللہ بوہیو۔ پتہ۔ P/o خیر محمد بوہیو براستہ نوشہروفیروز سندھ فون:۔
0300-2663651

Monday, June 9, 2014

عربی مدارس کا نصاب تعلیم خلاف قرآن ہے




وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (115-6)
خلاصہ: (قرآن میں) تیرے رب کے قوانین سچائی اور عدالت پر مشتمل مکمل ہوچکے اللہ اپنے قوانین میں کوئی تبدیلی کرنے والا نہیں ہے وہی سننے اور جاننے والا ہے۔
 






عربی مدارس کا نصاب تعلیم
خلاف قرآن ہے








عزیزاللہ بوھیو

قیمت پچاس روپیہ
سندھ ساگر اکیڈمی ولیج خیر محمد بوھیو براستہ نوشہروفیروز






قرآن بہروپیوں کے نرغے میں
اللہ عزوجل نے انسان کی سرشت اور خصلت یہ بتائی ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (52-22) خلاصہ یعنی اے نبی ہم نے آپ سے پہلے جب بھی کوئی رسول اور نبی بھیجا اور جب بھی اس نے اپنی رسالت لوگوں تک پہنچائی تو ان انبیاء ورسل کے جانے کے بعد شیطان قسم کے لوگوں نے رسالت کے پیکیجز میں ملاوٹیں ڈالدیں پھر ہوتا یہ تھا کہ بعد میں آنے والے نبی کی معرفت ہم ان ملاوٹوں کو مٹادیا کرتے تھے جسکے ساتھ اللہ اپنی آیات اور احکام کو پھر سے محکم اور مضبوط بنادیتے تھے اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
محترم قارئین! یہ بات رب پاک نے اس دور کی بتائی ہے جب انبیاء بھیجے جانے کا سلسلہ جاری تھا اور علم خداوندی میں خیانتوں اور ملاوٹوں کے سدباب کیلئے بعد میں آنیوالے انبیاء کی معرفت علم کو خالص بنایا جاتا تھا پھر جب رب تعالیٰ نے سلسلہ نبوت کو ختم کرکے (40-33) انسانوں کو آخری نبی کی معرفت جو علم وحی کی آخری کتاب عنایت فرمائی تو ماضی کی طرح کے شیطان قسم کے لوگوں  کی خصلت بدکے پیش نظر اللہ نے اعلان فرمایا کہ ہم اس قانون اور کتاب کو نازل تو کررہے ہیں لیکن اسکی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود ہم ہی کرینگے۔ (9-15) پھر ہوا کیا وہ آپ اور ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ انسان کی وہ پرانی خصلت بد ختم نبوت کے بعد بھی آج تک علم وحی کے قوائد کو مٹانے کے درپئے ہے اب تک کے تجربہ نے ثابت کیا ہے کہ قرآن دشمن مافیا نے دین اسلام کی دوستی کا جبہ پہن کر اپناروپ یہ  دھارا ہے کہ ہم اسلام کے اصل ترجمان ہیں جبکہ انہوں نے جناب رسول کی حیات طیبہ میں ہی جناب رسول کی نبوی مجلس علمی میں جانے والوں کو یہ کہہ رکھا تھا کہ  إِنْ أُوتِيتُمْ هَـذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُواْ (41-5) یعنی اگر رسول کی جانب سے یہ ہماری والی باتیں اور خیالات ملیں تو ان کو قبول کریں اگر ہماری والی باتیں نہ ملیں تو ان سے بچکر رہیں۔ یہ مذکور تو ان اہل کتاب یہودکا ہے جو شہر مدینہ کے باسی تھے اور غیر یہودیوں کے لئے بھی قرآن نے بتایا کہ  يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُواْ آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ (41-5) یعنی اے رسول آپ غمگین نہ ہوں ان لوگوں پر جو کفر میں جانے کیلئے جلدی کرتے ہیں ان میں کے کئی لوگ ایسے ہیں جو دعوی تو ایمان لانے کی کرتے ہیں لیکن ان لوگوں نے دلوں میں ایمان نہیں لایا، سوچنے کی بات ہے کہ قرآن حکیم نے منافقوں اور یہودیوں کا یہ بیان ایک ہی آیت میں ایک ساتھ بتایا ہے۔ یہاں یہ بیان کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ قارئین لوگ غور فرمائیں کہ جناب رسول کی حیات اقدس میں ہی قرآن مقدس کے دشمنوں کی کیا تو ملی بھگت ہے یعنی اللہ عزوجل اپنی کتاب قرآن کی حفاظت کن کن نامساعد حالات میں کرتا ہوا آرہا ہے۔ اس ایک ہی آیت (41-5) میں منافقین اور علماء یہودکا ملاکر موقف اور نظریہ ساتھ ساتھ پیش کرنے سے رب تعالیٰ یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ جن قرآن دشمن منافقوں نے میری جانب سے ایک ہی قرآن نازل کرنے کے باوجود (19-6) جھوٹی حدیثیں گھڑی ہیں کہ نزل القرآن علی سبعۃ احرف یعنی اللہ کی جانب سے اسکے رسول پر سات حرفوں میں سات قرآن نازل کئے گئے ہیں پھر ان بہروپیوں نے رد قرآن کی خاطر بنائی ہوئی ایسی حدیثوں کو خلافت بنوعباس کے دور سے لیکر عربی مدارس کے درس نظامی میں شامل کرکے آج تک پڑھاتے آرہے ہیں جسکا نتیجہ بارہ تیرہ سو سال گذرنے کے بعد یہ نکلا ہے کہ حکومت سعودیہ نے ملاوٹی حرفوں پر مشتمل تین قرآن بنائے ہیں جن میں سے البوزی نامی ملاوٹی قرآن ہمیں انٹرنیٹ سے دریافت ہوا ہے اور سولہ عدد قرآن اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر لاہور کے اہل حدیثوں نے حرفی ولفظی تحریفات پر مشتمل تیار کئے ہیں جن کے متعلق انکا کہنا ہے کہ یہ قرآن شائع کرنے کے لئے ہم حکومت سعودیہ کے حوالے کریں گے، یہ ہے وہ بات جو کسی نے کہی تھی:
کہ چوکفراز کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی
ابھی جو آپنے آیت کریمہ (41-5) کے اندر ایک ساتھ یہودیوں اور منافقوں کا ذکر ملاحظہ فرمایا، جناب قارئین انکا یہ سلسلہ مودت ان دونوں کے دور سے آج تک چلا آرہا ہے پاکستان کو قائم کرنے میں یہودیوں کی تنظیم کے فری میسنریوں کا ہاتھ تھا جسکا اہم ممبر جی ایم سید تھا جس کے ساتھ میرے بھی مراسم رہے ہیں مودودی صاحب قیام پاکستان کی مخالفت کرتے کرتے جب پہلی بار پاکستان آئے اور پھر جب پہلی بار کراچی آئے تو صبح کا ناشتہ حیدر منزل پر جی ایم سید کے گھر میں اسکے ساتھ کیا ناشتہ کی اس مجلس میں تیسرا آدمی انکے ساتھ صرف پیرعلی محمد راشدی تھا فلسطینی مظلوموں کا قاتل ضیاء الحق اپنی صدارت کے دوران جی ایم سید سے ملے سندھ کے گورنر نے جو ایک فوجی جنرل تھا ضیاء صاحب کو کہا کہ آپ پاکستان کے اس دشمن سے کیوں مل رہے ہیں تو صدر صاحب نے جواب میں کہا کہ آپ صرف انکے پاکستان بنانے کے کارنامہ پر نظر رکھیں۔ فری میسن کے فریم ورک سے جنرل آصف نواز جنجوعہ صرف ایک بال کے برابر باہر ہوا تو اسکا ہارٹ فیل کردیا گیا۔ میں بھی فری میسن کے ڈرکی وجہ سے اسکے جو عالم اسلام کی مذہبی قیادت کے ساتھ تعلقات ہیں انپر کچھ بھی نہیں کہ رہا۔ میں دعوی سے یہ بات کہتا ہوں کہ اگر آج سعودی حکمران امت مسلمہ سے معافی مانگیں کہ انہوں نے جو قرآن میں ملاوٹ حرفی کرکے شائع کیا ہے یہ عالمی سامراج کی مسلط کی ہوئی مذہبی قیادت کی وجہ سے ایسا کیا ہے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ قرآن ایک قرائت میں نازل ہوا ہے (6-87) ہم ملاوٹی نسخے واپس لیتے ہوئے اللہ اور امت مسلمہ سے معافی کے خواستگار ہیں توفی الفور آئی ایم ایف والے انکا حشر قذافی سے بھی بدتر کریں گے۔ میں نے یہاں آئی ایم ایف کا ذکر اسوجہ سے کیا کہ میں ایک ٹی وی پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں دوعدد یونیورسٹیوں کے دو وائیس چانسلر چئنل کے اینکر پرسن کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ڈائریکٹرہر سال آکر ہم سے معلومات لیتے ہیں کہ ہمارے قرضوں سے آپ کون کون سے ترقیاتی کام کر رہے ہیں، ہم نے ایک میٹنگ میں انکو بتایا کہ تعلیم کے شعبہ میں ہم نے اب دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں جدید مضامین سائنس تاریخ جغرافیہ کمپیوٹر شامل کرکے انکے ہاں پڑھنے والوں کو نئی دھاراؤں میں لانے کا پروگرام بنایا ہے اسپر جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ اپنے دینی مدارس والوں کو انکے پرانے نصاب  پڑھا ئیں ورنہ ہم آپکی امداد بند کر دیں گے۔ شاید علامہ اقبال ملت اسلامیہ کیلئے عالمی سامراج کی ہماری صفوں میں پاپائیت اور خانقاہیت کے روپ میں قائد امت بنی ہوئی مافیا کو پہچان گئے تھے جن کی زبانی انکا راز بتایا کہ
مست رکھو ذکرو فکر صبحگاہی میں انھیں
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں انہیں
درس نظامی کے درجات اور کتب جو اورنگزیب کے زمانے میں مولانا نظام الدین سہالوی نے ترتیب دیں تھی ان میں دورہ حدیث کے نام سے صحاح ستہ نامی (قرآن دشمن احادیث کی) چھ عدد کتابیں بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ بطور اضافی ترمیم کے شامل درس نظامی کرائیں جس کے لئے انگریز سرکار نے اٹھارہ سؤ ستاون کی جنگ آزادی میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کی شرکت کے جرم کی پاداش میں اسکے ساتھ سودا کیا تھا کہ تیرے جرم کی سزا جیسے کہ تختہ دار ہے سو اگر آپ پھانسی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمارے دوکام کرنے ہونگے ایک یہ کہ فتوی لکھو کہ آج کے دور میں اگر کوئی شخص خود کو نبی کہلائے اور نبوت کی دعوی کرے تو محمد رسول اللہ کی ختم نبوت نہیں ٹوٹے گی اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا دوسرا کام یہ ہے کہ آپ ایک  مدرسہ قائم کریں جس میں دینی علوم کے درس نظامی میں حدیث کی صحاح ستہ کے نام سے چھ کتابیں شامل کریں۔ یہ دونوں شرط قبول کرکے نانوتوی صاحب خود تو پھانسی پر چڑھنے سے بچ گئے لیکن صحاح ستہ نامی کتب احادیث کو درس نظامی میں رائج کرکے پورے اسلام کو پھانسی پر چڑھا دیا (آج اگرکوئی نبی کہلائے تو ختم نبوت کو کوئی خطرہ نہیں یہ نانوتوی صاحب کی فتویٰ اسکی کتاب تحذیر الناس میں آج بھی موجود ہے ہر کوئی پڑھ سکتا ہے) میں نے جو علم حدیث کو درس نظامی میں لانے سے اسلام کو پھانسی  پرچڑھانے سے تعبیر کیا ہے وہ اس دلیل کے ساتھ کہ کتاب بخاری میں امام بخاری نے معاذ اللہ استغفراللہ جناب رسول علیہ السلام کو زانی اور بت پرست لکھاہے زنا کے حوالہ کیلئے پڑھیں کتاب النکاح کے باب نمبر 142 کی حدیث نمبر 218 سمعت انس بن مالک قال جاءت امرأۃ من الانصار الی النبی ‍ﷺ فخلابھا فقال واللہ ان کن لاحب الناس الی یعنی انس بن مالک کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک عورت آئی نبی علیہ السلام کے پاس پھر  آپ نے اسکے ساتھ خلوت کی اسکے بعد اسے کہا کہ آپ انصار کی عورتیں مجھے بہت محبوب لگتی ہیں اور لوگوں میں سے۔ دوسرے مقام پر کتاب الطلاق کی حدیث نمبر 238 میں حدیث ہے کہ مدینہ سے قریب شوط نامی کھجور کے باغ میں جونیہ نامی ایک عورت کو لایا گیا تھا وہاں رسول اندراس گھر میں گئے اور جونیہ کو کہا کہ ھبی نفسک لی یعنی آپ خود کو میرے حوالے کرو، تو جواب میں اس عورت نے کہا کہ کیا کوئی ملکہ کسی بازاری شخص کیلئے خود کو حوالے کرسکتی ہے اور امام بخاری کی ایک حدیث میں جناب رسول کو معاذاللہ بتوں کو سجدہ کرنے والی حدیث کا حوالہ اور تفصیل خود اس کتاب کے مضمون "نبی کا مشرکوں کے ساتھ بتوں کو سجدہ کرنا"۔ میں پڑھ سکتے ہیں۔
جناب قارئین! کیا مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں امت کے اندر یہودو نصاری اور مجوس کی ایجنٹ مافیا جو قرآن دشمنی کی خاطر یہ خرافات پھیلارہی ہے کہ علم حدیث کے بغیر قرآن سمجھ میں نہیں آسکتا اور اگر حدیثیں قرآن کا تفسیر کرتی ہیں تو ابھی جو آپ کتاب بخاری کی حدیثیں پڑھ آئے کیا ان کو آپ جناب رسول کی مدحت قرار دیں گے یا مذمت، جناب رسول کی تعریف قرآن حکیم نے جو خود کی ہے کہ   لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (21-33) یعنی جو لوگ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کیلئے اسکے قانون کی یاد سے یوم آخرت کی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے زندگی کا نمونہ اور سمبال جناب رسول کی شخصیت کی سیرت ہے تو اب کوئی بتائے کہ اللہ نے اس آیت کریمہ میں جو اپنے نبی کی سمبالک پر سنلٹی کو سراہا ہے اس مدحت نبی کے مقابلہ میں کوئی بھی اہل حدیث اگر وہ اپنے اندر میں چھپا ہوا عیسائی نہ ہو تو کیا وہ بخاری کی مذکور حدیثیں جناب رسول کی اس تعریف میں بتائی ہوئی آیت کریمہ (21-33) کے مقابلہ میں تفسیر کیلئے پیش کرسکتا ہے؟ میں نے کسی اہل حدیث کیلئے اندر میں اسکے عیسائی نہ ہونے کا شرط اسلئے لگایا ہے جو کسی سرکاری آدمی کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ چھاپوں کے دوران اہل حدیثوں کے ٹھکانوں سے ہمیں عیسائی لٹریچر ملا ہے۔ اسکے سواء میں ابھی کچھ دن پہلے پنجاب گیا وہاں دوستوں نے مجھے حدیث کی کتاب مسلم دکھائی جسکا اردو ترجمہ علامہ وحید الزمان کا کیا ہوا تھا جومسلکا اہل حدیث تھے اور مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور سے شائع شدہ تھی دوستوں نے کتاب کے اندر کتاب الفتن کے ایک باب میں ایک حدیث کے متعلق سوال کیا کہ آپ اسکے بارے میں کیا کہتے ہیں باب کا عنوان تھا باب تقوم الساعة والروم اکثر الناس پھر نیچے کی حدیث جو دوست نے پڑھکر سنائی تو مجھے وہ مکمل نیا ماڈل حدیث معلوم ہوئی میں نے میزبان دوست سے گذارش کی کہ میرے گھر میں بھی مسلم کتاب ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہے یہ حدیث میں اسکے ساتھ ٹیلی کرکے دیکھوں گا مجھے یہ حدیث فوٹو اسٹیٹ کراکر دیں جو انہوں نے مجھے ازراہ عنایت فوٹو اسٹیٹ دلایا اور گھر میں آکر جو میں نے درس نظامی والی بغیر ترجمہ کتاب سے ملاکر دیکھی تو لاہور والی کتاب مسلم کراچی کی کتاب مسلم سے بلکل اور تھی یعنی کراچی قدیمی کتب خانہ کے مطبوعہ کتاب میں وہ باب اور حدیث سرے سے تھی ہی نہیں جس میں یورپ کے رومی عیسائیوں کی دنیا پر غلبہ کی وجہ انکی اعلیٰ چار خصلتیں بھی حدیث میں گنوائی ہوئی تھیں اس سے تو میں سوچ میں پڑگیا کہ علامہ وحید الزمان صاحب بھی اہل حدیث تھے جس کو ملی ہوئی یہ حدیث برطانیہ کی جھنگل کی حویلی والوں کی طرف سے سمرقند بخارا نیشاپور کی حدیث سازی کے ٹکسال کی طرح جاری کی ہوئی ہے اور میڈ ان برٹش  حدیثیں  اہل حدیثوں کے روپ دھارے ہوئے علاموں کے مکاتب کی طرف سے نت نئی تقاضائوں کے حل کی خاطر عالم اسلام کی علمی مارکیٹ میں لائی جارہی ہیں پاکستان گورنمنٹ میں بھی کوئی دم نہیں ہے جو ایسی چیزوں کی طرف توجہ کرے لیکن وہ نئی حدیثوں کی گھڑاوت کی طرف بھی کیا توجہ کریگی جو آج سے اندازا بیس پچیس سال پہلے میں نے شہر کراچی کی ایک لوکل بس میں سفر کرتے ہوئے بس پر چسپاں ایک اسٹیکر پڑھا جس پر ایک حدیث رسول علیہ السلام کے اسم گرامی کی طرف منسوب لکھی ہوئی تھی جسکا خلاصہ یہ تھا کہ فرما یا رسول علیہ السلام نے کہ اخیر زمانے میں ملک ہند کے ساتھ اسلام کی فوجیں لڑیں گی جو شخص بھی مسلم فوج میں بھرتی ہوکر کفار ہند سے لڑے گا تو اسکے لئے اللہ کے ہاں اتنے اتنے درجات ہوں گے میں یہ حدیث پڑھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ روایت جماعۃ الدعوہ کے حافظ سعید اہل حدیثوں کے جہادی لیڈر کی مشن کی خاطر تیار کرائی گئی ہوگی حدیث سازی کی بات چلی ہے تو ایک اپنی بات دوبارہ بھی عرض کروں کہ ذاوالفقار علی بھٹو کو نئی نئی حکومت ملی تھی جی ایم سید نے پوری سندھ کا دورہ شروع کیا یہ 1973ع کے اوائل کی بات ہے دورے میں کئی دوست شریک تھے میں بھی تھا حاجی عطا محمد لنڈ مرحوم کے گاؤں میں ایک رات بسیرا ہوا وہاں سندھ کے بین الاقوامی انعام یافتہ کہانی کار اور افسانہ نویس علی بابا بھی ساتھ تھے اسنے مجھے رازدارانہ انداز میں کہا کہ ایک کام کرو میں نے کہا وہ کونسا کام تو اسنے کہا کہ رسول اللہ کے نام سے ایک حدیث بناؤ کہ انہوں نے سندھو دیش بنانے کی تلقین کی ہے اور فضائل بتائے ہیں میں نے اسے کہا کہ کم بخت حدیث تو حدیث جب ہوگی جب رسول خود فرمائے ایسے کیسے حدیث بنے گی اسنے کہا باقی سب حدیثیں بھی دوسرے لوگوں نے بنائی ہیں اگر تمنے ایک اور بنادی تو کیا ہوگا۔ میں اب سوچتا ہوں کہ علی بابا کی بات صحیح تھی میں غلطی پر تھا۔
اہل حدیث لوگوں کے نزدیک مسائل دین قرآن سے بتانا ناجائز ہیں۔
میرے سامنے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب "تحریک آزادی" ہے جو طیب پبلشرز یوسف مارکیٹ غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور کی شائع کردہ ہے جس میں آخری چیپٹر مرزائیت کے عنوان سے جو صفحہ نمبر 159 سے شروع ہوتا ہے اسی میں کوئی شخص آزاد صاحب سے اپنے علائقہ میں کسی احمدی مرزائی قادیانی مبلغ کی تبلیغی سرگرمیوں کے حوالہ سے کچھ استفسارات کرتا ہے جن میں مرزاغلام احمد کی دعاوی بسلسلہ نبوت کے سوال ہیں اس حصہ میں کل چھ عدد خطوط ہیں جن میں سے ایک خط مولانا ثناء اللہ امر تسری صاحب جو اخبار اہل حدیث کے ایڈیٹر تھے کو لکھا ہے۔ کہ مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ جو تحریر اس میں شائع فرمائی ہے وہ نظر سے گذری حیران ہوں کہ آخر ان خطوط میں کونسی بات تھی جس سے ان دور از کار نتائج کی طرف آپ کا ذہن منتقل ہوا۔
جناب قارئین! خط لمبا ہے جو مکمل نقل کرنا ضروری نہیں اسکے حوالہ سے جو بات بھی کرنی ہے وہ یہ کہ جناب مولانا آزاد صاحب علم حدیث کے پرستار تھے خود اہل حدیث بھی تھے اس حد تک بدبودار اہل حدیث تھے جوولیعلھم الکتاب والحکمة (129ڏ2) میں لفظ حکمت کو کتاب قرآن کی تفسیر ماننے کے بجاء علم حدیث قرار دیتے تھے اور مقدام کی روایت کہ "الاانی اوتیت الکتاب و مثلہ معهٗ" یعنی نعوذباللہ وہ علم حدیث کو قرآن کے مثل بھی قرار دیتے تھے۔ آزاد صاحب کے یہ خیالات اسکے خط میں لکھے ہوئے ہیں سو آزاد صاحب کی حدیث پرستی کے لئے اتنی یقین دہانی اگر سچی ہے تو ایسے آدمی نے مولانا ثناء اللہ کو لکھا ہے کہ میں نے اگر کسی آدمی کو ختم نبوت کے ثبوت میں صرف قرآن حکیم کے دلائل کا ذکر کیا ہے اور احادیث کا ذکر نہیں کیا ۔۔۔۔ اب فرمائیے اگر ایسا لکھ دیا گیا تو اس میں کونسی برائی کی بات ہوگئی اس درجہ ناگواریء خاطر کا موجب ہورہی ہے؟ محترم قارئین! آپ سمجھ گئے ہونگے کہ ابوالکلام آزاد کے خطوط میں احمدی مبلغ کے دوست کے خطوط کے جواب آزاد صاحب نے جو دئے ہیں ان میں کمی کے ازالہ کے لئے خط میں کسی مسیح موعود کے آنے کے مشہور کردہ مفروضوں سے متعلق بھی آزاد صاحب نے خلاف قرآن نزول مسیح کا نظریہ بھی قبول کیا ہے اسکی تائید میں مسیح کے آنے کا اقرار بھی کیا ہے پھر بھی اہل حدیثوں کا پیشوا جناب ثناء اللہ امرتسری صاحب اس پر سرزنش کرتا ہےاور تنابزوا بلالقاب کی حد تک آزاد صاحب کو طعن وتشنیع کرتا ہے ۔
بہرحال مولانا ثناء اللہ امرتسری نے کہاکہ آپ نے یہ سارا بحث اور استدلال صرف قرآن کے حوالہ سے کیوں کیا اور علم حدیث کے حوالوں سے حدیثی موقف کیوں پیش نہیں کیا۔
جناب قارئین! علم حدیث کی وسعتوں کا یہ حال ہے کہ تاریخ اسلام میں جتنے بھی باطل فرقے پیدا ہوئے ہیں بشمول مرزاغلام احمد قادیانی کے سب نے اپنے موقف کی تائید میں علم حدیث کی روایات پیش کی ہیں ویسے بھی شیعوں کی حدیثیں جدا ہیں سنیوں کی حدیثیں جدا ہیں پھر سنیوں میں دیوبندیوں اور بریلویوں کی حدیثیں بھی جدا جدا ہیں اگر آپ ان فرقوں کے پسمنظر میں جائیں گے تو اہل حدیث اور دیوبندی سعودی حکومت کی گڈلسٹ میں ملیں گے بریلوی فرقہ کے لوگ ترکی حکومت کی گڈ لسٹ میں ملیں گے شیعہ لوگ ایران مصر اور شام کی گڈلسٹ میں ملیں گے اور اگر ان حکومتوں کے تعلقات پر جائیں گے تو مذکور مسلم ممالک امریکہ اور عالمی سامراج کے گڈلسٹ میں ملیں گے۔ نیز امریکہ اور عالمی سامراج کے تعلقات مذہبی فرقہ جاتی قیادتوں کے ساتھ براہ راست بھی ملیں گے۔ چونکہ دنیائے سامراج کی اصل جنگ قرآن سے ہے اسوجہ سے کہ یہ کتاب محنت کشوں کی لوٹ کھسوٹ کرنے سے رکاوٹ ہے (22-45) اسلئے عالمی استعمارنے اپنے گماشتہ فرقوں کو حکم دیا ہوا ہے کہ مسائل دین بجاء قرآن کے علم حدیث سے دیا کرو جہاں تک جدید حالات میں علم حدیث کی رہنمائی کی گنجائش کی بات  ہے تو اس کے لئے سامراج کی جھنگل کی حویلیوں میں قائم کردہ حدیث ساز ٹکسالیں علم حدیث کی نئی نئی روایات پیش کرتی رہیں گی ویسے بھی امام بخاری کی سوانحی کتابوں سے استادوں نے ہمیں یہ بھی پڑھایا تھا کہ کتاب بخاری کی ایک ایک حدیث امام بخاری نے بذریعہ مراقبہ کے جناب رسول علیہ السلام سے پوچھ کر کےتصدیق کرکے بعد میں کتاب کے اندر شامل کی ہیں سو مراقبوں میں جناب رسول کے ساتھ ملاقائیں کرنے کے آج کے دور میں بھی کئی ادارے قائم ہیں دکانیں چل رہی ہیں سجادہ نشین لوگ مریدوں کو نوید سناتے ہیں کہ جناب رسول نے مجھےخواب میں یامراقبہ میں آپکا نام لیکر یہ حکم دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔
بہاولپور شہر میں بزم طلوع اسلام کا ممبر مرحوم بشیر صاحب اپنی دکان پر ہر آنے جانے والے سے قران حکیم کے حوالوں سے مسائل دین شیئر کرتا تھا 1999ع میں دہشتگردوں کی آجکل بندش کردہ تنظیم کے آدمی نے اسے قتل کردیا۔ کچھ دنوں بعد کسی دوسری واردات میں وہ قاتل گرفتار ہوا اور جیل میں قید کیا گیا مرحوم شہید بشیر کے بھائی ذوالفقار صاحب جیل میں اسکے ساتھ ملنے گئے اور سوال کیا کہ آپنے میرے بھائی کو کیوں قتل کیا؟ اس نے جواب میں کہاکہ وہ مرتد تھا مرزائی تھا تو ذوالفقار نے اسے کہاکہ آپ غلط کہتے ہیں ہم سب بشیر مرحوم سمیت مرزائیوں کو مرتد کہتے ہیں آپکو کسنے کہا کہ میرا بھائی مرزائی تھا تو اسنے جواب میں کہاکہ میرے فلان استاد حضرت مولانا نے کہا تھا کہ بشیر مرزائی ہوگیا ہے پھر جھٹ سے ذوالفقار قاتل دہشتگرد کے استاد مولوی صاحب کے پاس پہنچے اور اس سے سوال کیا کہ آپنے اپنے کارندے سے میرے بھائی کو مرتد اور مرزائی بننے کی بات کرکے اسے قتل کرایا ہے آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میرا بھائی مرزائی تھا تو جواب میں مولوی صاحب نے فرمایا مجھے فلاں سرکاری عملدار نے کہا کہ بشیر مرزائی ہوگیا ہے اسے چلتا کراؤ! پھر میں فورا اس سرکاری عملدار کے ہاں پہنچا اور اسے کہا کہ آپ نے فلاں مولوی صاحب کو میرے بھائی بشیر کے مرزائی اور مرتد بنجانے کی بات کرکے اسے قتل کرایا ہے آپکے پاس کیا ثبوت ہے، ہم بزم طلوع اسلام سے تعلق رکھتے ہیں جسکا یہ نظریہ ہے کہ دین کے مسائل صرف قرآن سے بتائے جائیں (45-50) جواب میں اس سرکاری عملدار نے کہا کہ مجھے شہر کے فلاں اہل حدیث نے کہا تھا کہ بشیر مرزائی بن کر مرتد ہوگیا ہے۔ میں امت مسلمہ کے بہی خواہوں کی خدمت میں عرض گذار ہوں کہ غور کریں کہ عالمی سامراج ایمان اور دینداری کی ناپ تول داڑھی کے بالوں اور سلوار کے پائنچوں کی ناپ سے کرتا ہے جبوں میں چھپے ہوئے بہروپیوں کے ہاتھوں خدام القرآن لوگوں کو قتل کرارہا ہے اور حکومت پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے کارندے ان ملاؤں کے فرمانبردار بنے ہوئے ہیں یہ کونسی اسلامی مملکت ہے؟ کیا یہ جملہ دہشتگرد تنظییں اور مذہبی بہروپیے جان پوپ پال کے اس اعلان پر عمل نہیں کروا رہے کہ اس اکیسویں صدی میں دنیا کے اندر عیسائیت غالب ہوکر رہے گی کوئی بتائے کہ کیا یہی ہے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ؟
قیامت میں اللہ ہم سے غیر قرآنی ناموں اور ان سے منسلک روایتی قصوں کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔
علم حدیث سازی کے شروع دور میں اس دور کے سامراج کی نیٹو قسم کی اتحاد ثلاثہ یہود مجوس اور نصاریٰ کا اسلام کے خلاف آپس میں اتحاد تھا، جن کے فرستادگان مدعیء امامت دانشوروں کو اسلامی علوم کی دنیا میں جناب خاتم الانبیاء کو عمر کے لحاظ سے چھ سالہ گڑیوں سے کھیلنے والی بچی کے ساتھ خلاف قرآن عقد نکاح کرانے کی اسلئے ضرورت پڑی جو جناب رسول کو غیر قرآنی آل دینی تھی اس آل کی منبع فاطمہ کو بھی انہوں نے نوسال کی عمر میں جناب رسول کے چچازاد بھائی علی کے ساتھ شادی کرانی تھی۔ اگر علماء سامراج کو فاطمہ کی علی کے ساتھ شادی سے آل رسول پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ عائشہ کی فرضی شخصیت اوراسکی کم سنی میں خلاف قرآن عقد نکاح کی رام کہانی نہ بناتے(فاطمہ کی شادی کی عمر کا حوالہ کتاب اصول کافی کے باب میلاد ائمہ میں دیکھا جائے) علمی دنیا میں جھوٹی روایات کی پیداوار عائشہ کی جناب رسول کے ساتھ نوسال کی عمر میں شادی کا ڈنڈھورا پیٹا توجارہا ہے لیکن فاطمہ کی علی کے ساتھ نوسال کی عمر میں شادی کرنے پر کوئی بھی آواز نہیں اٹھتی!! تقابل اور تضادات کا ہنر بتاتا ہے کہ فاطمہ کی شخصیت منوانے کیلئے عائشہ کی متضاد شخصیت پیدا کی گئی ہے جسکے فرضی سوانحی تعارف پر ایسے تو مباحث کھڑے کئے گئے جو کسی اور طرف سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ ملے۔ تاریخ اسلام میں تبراباز حدیث سازوں نے اکابریں اسلام کے اصلی نام ہی مسخ کردئے ہیں انکی جگہ گالیوں والے نام ابوبکر، عثمان، معاویہ، عباس، خدیجہ، فاطمہ وغیرہ معنائوں کے لحاظ سے یہ سارے نام حکم قرآن بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ (11-49) کے خلاف رکھے گئے ہیں انکی معانی سے ان ہستیوں کی توہین ہوتی ہے۔
عربی مدارس کے درس نظامی کی قرآن دشمنی
عربی مدارس کے نصاب تعلیم میں جسکا نام "درس نظامی ہے" دوقسم کے علوم ہیں ایک قسم کا نام فنون ہے جو صرف ، نحو، منطق، ادب وغیرہ پر مشتمل ہے دوسرا قسم دینیات کے نام کا ہے جس میں فقہ حدیث اور تفسیر ہے فن تفسیر میں کل دوکتابیں ایک جلالین دوسری بیضاوی پڑھائی جاتی ہیں اور فن حدیث میں صحاح ستہ نامی چھ عدد کتابوں کے علاوہ ساتویں کتاب مشکوۃ اور کہیں کہیں آٹھویں کتاب مؤطا امام مالک بھی پڑھائی جاتی ہے باقی فقہ کی کتابیں نورالایضاح، قدوری، کنزالدقائق، شرح وقایہ اور ہدایہ پڑھائی جاتی ہیں اور ہدایہ میں فقہ کے چاروں اماموں ابوحنیفہ (اسکے دوتین شاگرد محمد، یوسف اور زفر) امام مالک شافعی احمد بن حنبل کے اقوال بھی پڑھائے جاتے ہیں دینیات نامی ان جملہ کتابوں پر دعوی سے یہ تبصرہ کرتا ہوں کہ ان میں کسی بھی کتاب کے اندر مسائل حیات کی خاطر قرآن کامتن لکھ کر اسکی رہنمائی کا کوئی بھی موقف اور نظریہ پیش کیا ہوا نہیں ہے اور جلالین اور بیضاوی سمیت تفسیر القرآن بالقرآن سے یہ جملہ امامی علوم یکسر خالی ہیں۔
جناب قارئین! میں نے ابھی دینیات کے اندر تین قسم کے علوم کا ذکر کیا ایک فقہ ائمہ اربعہ دوسرا علم حدیث وہ بھی امامی روایات والا تیسرا قسم تفسیر جو وہ بھی ان حدیثی روایات سے اخذ کردہ ہے فقہ سے متعلق اماموں کے پیرو کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حدیثی روایات سے استنباط کردہ علم ہےیہاں یہ بات کھل کر ثابت ہوئی کہ درس نظامی کی دینیات کا اصل واحد صرف علم حدیث ہے اور اس علم حدیث کے لئے امامی فرقوں کی دعوی ہے کہ یہ حدیثیں قرآن کا تفسیر کرتی ہیں ان حدیثوں کے علاوہ قرآن کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ جبکہ یہ دعوی مکمل طور پر جھوٹی ہے اس دلیل کے ساتھ کہ آیت إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ (105-4) کے مطابق جناب خاتم الانبیاء علیہ السلام کو رب ذوالجلال نے دنیا میں حکومت کرنے کے لئے حکمران بناکر بھیجا، لاکھوں حدیثوں میں سے کوئی ایک بھی حدیث ایسی دکھاؤ جس میں جناب رسول علیہ السلام کو حاکم بنانے کی بات لکھی ہوئی ہو، اور قرآن حکیم نے جملہ انبیاء علیھم السلام کے لئے فرمایا ہے کہ ہم نے سارے نبیوں کو علم وحی کی روشنی میں انقلابات لانے کے بعد حکمران بھی بنایا (79-21) کوئی بھی درس نظامی کا دستاربند عالم اس آیت کی تفسیر لاکھوں حدیثوں میں سے کسی ایک بھی حدیث سے کھول کردکھائے جس میں انبیاء کرام کو دنیاوی حکمران بنانے کی بات کی گئی ہو اگر ان اتحاد ثلاثہ یہود مجوس اور نصاری کے حدیث سازدانشور جو امامی خول اور روپ میں اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں کسی ایک بھی حدیث میں یاایھاالذین آمنوا کی تفسیر کریں کہ آمنوا کون لوگ ہیں اگر انکی حدیثوں کے حوالوں سے یاایھاالذین آمنوا کی معنی ایمان لانے والے ہیں تو ساری مکی سورتوں میں اس جملہ کی ترکیب سے یہ خطاب یاایھاالذین آمنوا کہیں ایک بھی مقام پر استعمال نہیں ہوا سو کیوں جبکہ پہلے مکی زندگی میں کئی سارے اصحاب کرام صاحب ایمان لوگ تھے جناب رسول کے ساتھ شریک انقلاب تھے مطلب میرے الزام کا ان حدیث سازوں پر یہ ہے کہ انکے اوپر اپنے ان داتا آقاؤں کی طرف سے یہ ڈیوٹی رکھی ہوئی ہے کہ قرآن کو غیر سیاسی کتاب بناؤ قرآن کو دعاؤں تعویذوں کی کتاب بتاؤ اور جو فقہ کی کتابوں میں معاملات کے ابواب ہیں وہ سب بغیر متن قرآن کے ہیں علم حدیث کی طرح انکے اپنے ہیں تاریخ اسلام میں تعلیمی درسگاہوں اور حکومتی اداروں میں قرآن کی جگہ علم روایات کو نصاب تعلیم میں لانے کا دور بنوامیہ کے زوال اور شکست کے بعد بنوعباس کے دور سے شروع ہوتا ہے، پھر جو مسلم حکمرانوں کےا قتدار کی تاریخ شروع ہوتی ہے وہ اہل سنت نامی بنو عباس اور فاطمین کے درمیان منقسم ہوجاتی ہے تیسرا گروہ اثنا عشری شعیوں کا ہے جنکی نفری طاقت اتنی نہ تھی جو وہ یوٹو پیائی آل کے لئے مین پاور اور افرادی طاقت سے اپنی حکومت بناسکیں اسلئے وہ لوگ اپنے لئے خیالی اور باطنی حکمرانی کے لقب پر راضی رہے اصل میں یہ تینوں گروہ بنوامیہ کے خلاف جو متحد ہوکر لڑے تھے وہ اس نظریہ پر کہ دنیا سے قرآن کی حکمرانی ختم کی جائے اور قرآن کی مستحکم حکومت جسکا بنیاد جناب خاتم انبیاء علیہ السلام نے مدینہ میں ہجرت کرتے ہی رکھا تھا اس لئے قرآن حکیم کی جملہ مدنی سورتوں میں یاایھا الذین امنوا کے خطاب سے جناب رسول کی حکومت کو اللہ نے دنیا بھر کو امن دینے والا حکمران کہا ہے اسکو مٹانے کیلئے اتحادی دشمنوں نے فلسفہ آل رسول ایجاد کیا تھا جو آل قرآن کے حوالہ سے نبی کو تھی بھی نہیں اور آج پندرھویں صدی ہجری تک فاطمی لوگ جن کے وارث اسماعیلی فرقہ والے ہیں، اہل سنت مارکہ زیدی شیعے اور اثناء عشری شیعہ لوگ آپس میں شروع کی طرح غیر قرآنی اور یوٹوپیائی تصوراتی آل رسول کے بنیادی نظریہ پر سب متفق ہیں بقایا تفصیلات میں انکے اتنے تو اختلافات ہیں جو یہ آپس میں ایک دوسرے کا خون  بہانا جہاد اور ثواب سمجھتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ کل امویوں کے دور اقتدار میں ان کو انکے اقتدار سے ہٹانے میں فاطمیوں اور عباسیوں کے درمیان وجہ اتحاد اور وجہ اشتراک جو آل محمد کا نظریہ بنا تھا آج تیرہ چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی نظریہ آل پر یہ دونوں تینوں گروہ پہلے کی طرح متفق اور متحد ہیں اسکے باوجود آپس کے خون بہانے کے لئے ہر وقت مستعد بھی رہتے ہیں جس کے دو سبب ہیں ایک ہے انکا داخلی بحران جس پر میں ڈرکے مارے جان بوجھ کر نہیں لکھ رہا دوسرا ہے انکا خارجی سبب وہ خارجی سبب یہ ہے کہ جس اتحاد ثلاثہ یعنی یہود مجوس اور نصاریٰ نے ان تینوں گروہوں کو جنم دیا تھا اب وہ انکے درمیان لڑاؤ اور حکومت کرو کی ٹرمنالاجی سے دنیا کے اندر سے اسلام اور مسلمانوں کی اسپین کی طرح بیخ کنی کرنا چاہتا ہے اس ہدف اور ٹارگیٹ کو پانے کے لئے ایک تو اکیسویں صدی کے شروع میں عیسائی کیتھولک فرقہ کے پیشوا آنجھانی جان پوپ پال بینی ڈکٹ نے ہندستان کے دورہ کے موقعہ پر کہا تھا کہ یہ اکیسویں صدی دنیا میں عیسائیت کے غلبہ کی صدی ہوگی، اس غلبہ کی جھلکیاں تمام بہت ہیں جن پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے جان پوپ پال کے قول کو ہم نے مسلم مملکت انڈونشیا اور سوڈان صومالیہ نائجیریا کو ادھر تم ادھر ہم کے نعرہ سے مذہبی بنیاد کا جوروح پاکستان کے اساس میں کارفرماتھا یعنی مذہب کی بنیاد پر ریاستوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا وہ ان ملکوں کا بٹوارہ کرکے اقوام متحدہ کے لسٹ میں نئی عیسائی ریاستوں کے اندراج کا اضافہ کرچکا جو یہ سلسلہ ابھی بند نہیں ہوا وہ جان پوپ پال کے کہے مطابق دنیا بھر سے مسلمانوں کے خاتمہ تک جاری رہیگا، پاکستان اور سعودی مملکۃ اگر اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ ہوتے تو مسلم ملکوں سوڈان اور انڈونیشا کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے اور جان پوپ پال کی وارننگ پرکئی سارے سیمینار کراتے کانفرنسیں کراتے اور مسلم ممالک کے وجود کی بقا کی خاطر کوئی عملی اقدامات اٹھاتے اور وجوہات پر تحقیق کراتے لیکن انکے خمیر کی روشنی میں کہنا پڑتا ہے کہ:
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
میری معلومات کے مطابق امریکن سی آئی اے کی تھنک ٹیئنک کی ایک میٹنگ میں یہ بحث بھی ہوا تھا کہ ہم جو سوویت یونین کے خاتمہ کے لئے مسلم امت میں جہادی گروپ جنم دے رہے ہیں یہ سوویت کے خاتمہ کے بعد ہمارے لئے کہیں مار آستین تو نہیں بنینگے سو انکی ایسی میٹنگوں میں جہادی لشکروں سے حفظ ماتقدم کے لئے یہ پاس کیا گیا تھا کہ انکو اپنی دوست عسکری فورسز اور مذہبی تنظیموں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے نہ صرف اتنا بلکہ انکے ذریعہ سے انکے اتحادیوں کے کئی اور دشمنوں کو بھی زیر کیا جائے سو جب سے پاکستان سرکار کے طالبان سے مصالحت کے مذاکرات شروع ہوئے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے تو جیو کے اینکر پرسن حامد میر نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے متعلق سوال کیا کہ یہ کامیاب ہوتے کیوں نظر نہیں آرہے تو مولانا نے جواب میں کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کی چابی جی ایچھ کیو کے پاس ہے اس کے علاوہ کچھ دن پہلے جماعت اسلامی کے سابق سربراہ منور حسن صاحب نے فرمایا تھا پاک فوج اور طالبان کی جنگ میں مرنے والے صرف طالبان سپاہی کو ہم شہید کہینگے تو ان دونوں تبصروں پر امریکن سی آئی اے کی میٹنگ میں جہادی فورسز کو کمان کرنے کے لئے جو پالیسی پاس کی گئی تھی اسکے کرتے دھرتے کھل کر سامنے آگئے میں یہ بظاہر تو موضوع سے باہر چلاگیاہوں لیکن قطعا ایسے نہیں میں بلکل یہ ساری باتیں درس نظامی کے مرکزی علم فن حدیث کی روشنی میں یہ باتیں کر چکاہوں وہ اس حوالہ سے کہ امریکہ برطانیہ کی جھنگل کی حویلیوں سے ابھی تک جناب رسول علیہ السلام کے اسم گرامی کے حوالوں سے حدیثیں جاری کی جارہی ہیں، اسلام صدیوں سے لیکر لاوارث ہے اسیوجہ سے تو ابھی نیا ماڈل علامہ وحید الزمان کے ترجمہ والی کتاب مسلم میں دنیا پر عیسائیت کے غلبہ والی حدیث لائی گئی ہے جو پرانے نسخوں میں نہیں ہے جبکہ یہ حدیث باقائدہ جان پوپ پال کے اعلان کا شرح ہے تو کوئی بھی وزارت تعلیم وزارت مذہبی امور کا ذمہ دار شخص اہل حدیث فرقہ والوں سے سوال نہیں کر رہا کہ آپ عالم اسلام میں ایسی حدیثیں لاکر کنکی نوکری کر رہے ہیں؟۔
قرآن کی رہنمائی میں آج بھی ہم ایک بن سکتے ہیں
علم حدیث گھڑنے والوں کی جانب سے جناب خاتم الانبیاء علیہ السلام کی حیوٰۃ طیبہ کے دور میں اصحاب رسول سے نفرت کی وجہ سے کئی سارے نام خلاف حکم قرآن گالیوں والے رکھے گئے تھے جنکی قرآن نے منع بھی کی ہے اس سے کئی فرضی شخصیتیں وجود میں لاکر انکی آپس میں خلاف حکم قرآن فرضی جنگیں مشہور کرائی گئی ہیں۔ ایران کے مرکز علمی قم کے فاضل ڈاکٹر کاظم علی رضا (جھنگ) نے ایک مجلس میں فرمایا کہ شیعہ مسلک کے لوگ قرآن حکیم کا بہت احترام کرتے ہیں۔
آیت کریمہ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (29-48) جنگ جمل اور جنگ صفین کو تسلیم ہی نہیں کرتی نیز آیت کریمہ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ (6-59) کھل کر جنگ خیبر کے لگنے کا انکار کر رہی ہے علم حدیث کی خلاف قرآن پئداوار، جناب رسول کی چھ اور نو سالہ فرضی دلہن جسکا نام عائشہ بتایا گیا ہے لغت کی کتاب المنجد جو ایک عیسائی کی لکھی ہوئی ہے نے لفظ عیاش کو لفظ عائشہ کا مبالغہ قرار دیا ہے اور عیاش کی جھوٹی اور فرضی معنی لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے لکھی ہے روٹی بیچنے والا، جبکہ بد باطن اور اصحاب رسول کے ساتھ دشمنی رکھنے والے روایت ساز اپنے ہنر سے دومعنی والے نام تجویز کرتے تھے اید بغیر گالی والی معنی دوسری گالی اور توہیں والی معنی تو عائشہ نام کی ایک معنی جو خوشحالی کی زندگی بسر کرنے والی ہے پھر اسکے مبالغہ والے عیاش لفظ کی دو معنی ہوئیں جسکے مطابق اس نام کی فرضی زوجہ رسول کا تعارف جو کتاب بخاری کی حدیثوں میں موجود ہے ان حدیثوں کی روشنی میں عائشہ عیاش ان دومعنائوں سے ایک عدد بری معنی ہےجس سے جھنگل کی حویلی کے قسم کے حدیث ساز ائمہ کی اندر کی عداوت رسول کو تو تسکین مل جاتی ہے مطلب کی غیر قرآنی علوم جو دینیات کے نام سےا مت کے سرپر مارے ہوئے ہیں انکو خیرباد کرکے خالص قرآن سے دین سیکھنے اور حاصل کرنے کے لئے امت کے مشاہیر کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے ورنہ جتنا فرقہ ساز علم حدیث نے پندرنھن سو سالوں میں مسلم لوگوں کا آپسکی لڑائیوں میں خون بہایا ہے اور رواں دور میں جو ہر فرقہ کے جدا جدا جہادی گروپ تیار کرائے گئے ہیں انکی کار گذاریوں سے کسی بھی خارجی دشمن کو ڈروں حملوں کی ضرورت نہیں پڑیگی مستقبل کی ان جملہ قیامتوں سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہم قرآن والے مسلم بنیں اور اپنی درسگاہوں کا نصاب تعلیم قرآن کی روشنی میں تیار کریں۔
جناب قارئين! علم روایات کی خلاف قرآن کارستانیوں کا کتنا تفصیل پیش کروں؟ اس علم نے حج کی معنی مسخ کرکےصفا اور مروہ کی معنی پہاڑیوں پر رکھدی اور حدیثیں بنائی کہ جناب ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہ اور اسکے نوزائدہ بچہ اسماعیل کو اپنے گاؤں "ار"سے لیکر مکہ میں چھوڑ گیا جس جگہ نہ پانی تھا نہ کوئی کھانے پینے کا راشن سو بچہ اسماعیل کو پانی نہ ملنے کی صورت میں  پریشان ہوکر  اسکی ماں صفا مروہ پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں دوڑی ہے اسلئے حاجیوں پر تاقیامت وہاں دوڑنا لازم کیا گیا ہے جبکہ قرآن حکیم کا اعلان ہے کہ اسماعیل کمانے کی عمر تک اپنے والد ابراہیم کے ساتھ رہا ہے (100 تا 102-37) قرآن کے اس فرمان سے اسماعیل کی ماں کے ساتھ مکہ میں آنے اور اسکی ماں کا بچہ کے پیاس کیلئے پانی کی تلاش میں دوڑنا اور بچہ اسماعیل کاپانی کیلئے ایڑیاں رگڑنا جس سے زم زم کا چشمہ ابل پڑا یہ سب باتیں جھوٹ بنجاتی ہیں یہ سارے جھوٹے قصے خلاف قرآن عربی مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس طرح علم حدیث بنانے والوں نے قانون تخلیق خداوندی لاتبدیل لخلق اللہ کے خلاف جناب عیسی علیہ السلام کے بن باپ پئدا ہونے کا ڈنڈھورا پیٹا ہے جبکہ سورت الانعام میں انبیاء اللہ زکریا یحی عیسی الیاس اسماعیل یسع یونس لوط علیھم السلام ان جملا انبیاء علیھم کے لئے اللہ نے مشترکہ طور پر انکے آباء واجداد کا ذکر فرمایا ہے (87-6) پھر کون سے دلیل کے ساتھ ان آیات میں سے جناب عیسی علیہ السلام کے نام کو کاٹ کر بن باپ بنایا گیا ہے کیا علم الاحادیث والے قرآن کو لاوارث قرار دیتے ہوئے اسکے اعلانات کو کاٹ رہے ہیں۔
ایسے کہ جیسے کسی کا خدا نہ ہو

امام بخاری کا جناب رسول کو مشرکوں کے ساتھ بتوں کی تعظیم میں سجدہ کرتے ہوئے دکھانا وہ بھی نبوت ملنے کے بعد۔
علم حدیث کے فن میں امام واقدی کا بھی بڑا نام ہے جسکی روایت ہے کہ جناب رسول علیہ السلام کفار مکہ کے سامنے سورت النجم کی آیت کریمہ پڑھ رہے تھے کہ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى۔ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى (20-53) اس آیت کے بعد بجاء اللہ سے ملی ہوئی وحی کردہ اگلی آیت 21 کے پڑھنے کے فرمایا کہ تلک الغرانیق العلیٰ وان شفاعتھن لترتجی یعنی یہ بت بلند وبالاہستیں ہیں انکی شفاعت اور سفارش میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے اور رسول کی جانب سے یہ پڑھتےہیں ان بتوں کی تعظیم میں جناب رسول اسکے مؤمنین صحابہ اور مشرکین کفار سب سجدہ میں پڑ گئے اب اس واقدی کی روایت کو قارئین مہربان ذہن میں رکھتے ہوئے کتاب بخاری کی اس حدیث پر غور کریں جس میں ہے کہ عن ابن عباس ان النبیﷺسجد بالنجم وسجد معہ المسلموں والمشرکون والجن والانس۔ حوالہ ابواب الکسوف باب سجود المسلمین مع المشرکین باب نمبر 686 حدیث نمبر 1006 یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے سورۃ النجم پڑھتے ہوئے سجدہ کیا اور ان کے ساتھ سجدہ کیا مسلموں نے مشرکوں نے جنوں نے انسانوں نے۔ اس حدیث میں امام بخاری نے واقدی کی حدیث کا دوسرا حصہ یعنی نبی اور کافروں کا ایک ساتھ سجدہ کرنا تو مان لیا باقی اگر لات عزی منوۃ اخریٰ کے بعد انکی شان میں تعریفی اور تعظیمی جملے تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی نہیں بولے مگر ایسے جملے بولنے کے بجاء انکی مطلوبہ تعظیم یعنی عملی طور پر بتوں کی بلند مقامی کو تسلیم کرتے ہوئے انکو سجدہ کرادیا یہ تو واقدی سے بھی بازی لے گئے رہا معاملہ کہ متبعین بخاری اہل حدیث فرقہ والے یادیوبندی اور بریلوی اہل سنت کہلانے والے بخاری کی امامت اور ایمان کو بچانے کی جو تاویل کرتے ہیں کہ حدیث بخاری  میں یہ نبی کا مؤمنوں کا کفارر اور مشرکوں کے ساتھ جو سجدہ ہے یہ سورۃ کی آخری آیت نمبر 62 میں حکم فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا (62-53) کے ذیل میں ہے یہ سجدہ اسکے اتباع میں ہے اگر علم حدیث کے پیروکار مذکور فرقوں کی اس بات کو درست تسلیم کریں گے تو پھر انکے بقول سجدہ کرنے والے مکہ کے جمع مشرکین اور کافرین لوگوں نے اللہ کا حکم فاسجدو للہ واعبدوا یعنی اللہ کو سجدہ کرو اور اسکی عبادۃ کرو کو قبول کردیا اور اسپر عمل بھی کرکے دکھایا، اسطرح سے تو یہ سب لوگ مؤمن و مسلم ہوگئے کیونکہ سجدہ کرنا تو ایمان لے آنے کا عملی ثبوت ہے اور جبکہ نزول سورۃ النجم کم سے کم نبوت کے پانچویں چھٹے سال کا وقت ہے پھر کفار جب رہے ہی نہیں تو انکے مظالم سے ہجرت کیوں ہوئی اگر ہوئی بھی سہی تو بدر اور احد میں لڑنے کیلئے کون لشکر لاکر جنگ کرنے آئے تھے۔
مناسب سمجھتا ہوں بلکہ ضروری سمجھتا ہوں کہ قارئین کی خدمت میں حدیث ساز لوگوں کی طرف سے قرآن میں چودہ بار سجدہ تلاوت کا پس منظر بھی پیش کرتا چلوں بلکہ جوکسی حد تک پیش ہو بھی چکا ہے لیکن مزید و ضاحت کے طور پر عرض گذار ہوں کہ یہ حدیث ساز گروہ، اسلام قرآن اور جناب خاتم الانبیاء علیہ السلام کا ازلی دشمن ہے جب ہی تو واقدی اور امام بخاری نے جناب رسول کو لات، منات، عزی نامی بتوں کے نام سنتے ہی انکی  تعظیم میں نعوذباللہ انکو سجدہ کرایا ہے اور جناب رسول کو  بت پرست ثابت کیا ہے یہ بات تو میرے مخالف قارئین یعنی مذکور حدیث پرست فرقوں والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بخاری کی اس حدیث میں کفار اور مشرکین کا سجدہ کرنا یہ انکے اسلام لانے کا ثبوت نہیں ہے اور وہ سب کافر مشرک سجدہ کرنے کے بعد بھی مؤمن اور مسلم نہیں ہوئے تھے اگر انکے سجدہ کو اسلام لانے سے تعبیر کرینگے تو پھر انکا دوبارہ مرتد بننے کیلئے علم حدیث بنانے والوں نے ایسی کوئی حدیث نہیں بنائی ہے جس سے ثابت ہو کہ کافر مشرکون کا سجدہ لات عزی اور منواۃ نامی بتوں کیلئے تھا سورت کی آخری آیت کے حکم کے ذیل میں نہیں تھا جس سے انکا ایمان لانا اور اسلام لانا ثابت ہوجاتا ہے ہاں اگر یہ فالٹ حدیث بنانے والوں کے ذہن میں آجاتا کہ اگر کافر اور مشرک لوگوں نے آخری آیت کے حکم کے اتباع میں سجدہ کیا ہے۔ اس سے تو وہ مومن ہوگئے سو اسٹوری کے اس جھول کو درست کرنے کیلئے وہ ضرور انکے لئے ایمان لے آنے کے بعد پھر انکے مرتد ہونے کی بھی کوئی حدیث بناڈالتے۔ حدیث ساز اماموں نے جو کافر اور مشرک لوگوں کے سجدہ کرنے کا ذکر کیا ہے اس میں انہوں نے جناب رسول کو کفار کے بتوں کو سجدہ کرنے میں انکے ساتھ عملی ساتھ دیتے ہوئے دکھایا ہے معاذ اللہ نعوذباللہ یعنی جناب رسول کو بھی بتوں کی تعظیم میں سجدہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اگر یہ میری بات غلط ہے تو کوئی بھی دستار بند ملامولوی مشرکوں اور کافروں کے سجدہ کرنے سے ایمان لانے کے بعد انکا دوبارہ مرتد ہونا انکی اپنی والی احادیث میں سے ثابت کرکے دکھائے، اگر یہ کافروں اور مشرکون کے دوبارہ ایمان سے ارتداد کی حدیث نہیں دکھا سکتے تو باقی تیرہ سجدہائے تلاوت کے موقعوں پر کفار اور مشرکوں نے سورۃ النجم کے سجدہ کی طرح سجدہ کیوں  نہیں کیا؟ اس سے ثابت ہوا کہ اہل حدیث اور حدیثوں کے پیرو کاروں کے ہاں بھی انکا مسلک امام بخاری والا ہے کہ نعوذ باللہ جناب رسول اللہ نے بھی لات عزی اور منٰوۃ کی تعظیم کرتے ہوئے انکو سجدہ کیا ہے۔
اور باقی تیرہ سجدہائے تلاوت میں جناب رسول کے سجدہ کرنے کے ساتھ مشرکوں اور کفار کا سجدہ اسلئے نہیں ہے  جوان آیات سجدہ میں لات عزی منوٰۃ  بتوں کے نام نہیں ہیں۔

انتباہ
میں عزیزاللہ بوہیو اللہ کے فضل سے جمیع احکامات قرآن پر ایمان رکھتاہوں میں قیامت یوم الحساب کے موقعہ پر حجت کی خاطر یہ دعوی کے ساتھ وضاحت کر رہاہوں کہ بخاری کی اس حدیث سے مقصد حدیث سازوں کا جناب رسول علیہ السلام کی توہین کرنی ہے کہ انہوں نے معاذاللہ نبوت کے ایام میں سورت النجم کے نزول کے وقت کافروں کو سناتے وقت معاذ اللہ بتوں کو سجدہ کیا ہے اور اپنی اس بدباطنی کو چھپانے کیلئے یہ جڑتو مسئلہ گھڑا ہے  کہ قرآن میں جب جب سجدہ کرنے کے لئے امر کے صیغہ کے ساتھ حکم آئے توفی الفور وہیں کے وہیں اسی وقت سجدہ تلاوت کرنا ہے یہ جھوٹ اصل میں جناب رسول کو کفار کے بتوں کو سجدہ کرنے سے، علماء قرآن کی طرف سے انکار کرنے اور چئلنج کرنے کی وجہ سے ایجاد کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی بدباطنی کو چھپاسکیں، افسوس کہ ناموس قرآن اور ناموس رسول پر یہ الزامات اور توہین آمیز بہتان مدارس عربیہ کے درس نظامی نامی نصاب کی کتابوں میں امت مسلمہ کی اولاد کو درسا پڑھائے جاتے ہیں اور جناب رسول اور اللہ کے قرآن کا کوئی وارث اس درس نظامی کی خرافاتی روایات کو چئلنج کرنے سامنے نہیں آرہا، سو سجدہ تلاوت کے اختراع پر قارئین کی خدمت میں عرض کروں کہ قرآن حکیم میں جتنے بھی اوامر ونواہی ہیں انپر ایمان لانے کے بعد حکم کے مطابق تاحیات مثبت اور منفی حساب سے عمل کرتے رہنا ہے اور یہ مقصد نہیں ہے کہ صرف آیت سجدہ پڑھتے وقت ہی فی الفور سجدہ کرنا ہے اور جبکہ سجدہ کی یہ معنی بھی صحیح نہیں ہے جسطرح یہ مروج سجدہ الٹی طرح گرنے سے ادا کر رہے ہیں کیونکہ سجدہ کی معنی قرآن حکیم نے خود سمجھائی ہے وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (50-16) یعنی وہ کام کرنے ہیں جن کا حکم دیا جائے۔
اگر میری یہ بات غلط ہے تو کوئی بتائے کہ آیت کریمہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (77-22) میں جو تین عدد احکام دئے گئے ہیں ایک رکوع کرنے کا دوسرا سجدہ کرنے کا تیسرا کوئی سانیک کام کرنے کا، درس نظامی کے مصنفین جن کی بڑی کھیپ جو بارہ امامی شش امامی اور چہار امامی شیعوں پر مشتمل ہے ان سب میں سے کسی نے بھی اس آیت کے حکم سے سجدہ تلاوت کی طرح، تلاوت والا رکوع اور تلاوت والے کارخیر کو وہیں سجدہ کی طرح دوران تلاوت رکوع کرنے کا حکم نہیں دیا اور وہیں کے وہیں دوران تلاوت کوئی سا کارخیر یعنی کسی بھوکے ننگے یا بیمار کی حاجت روائی کرنے کا حکم نہیں دیا سو کیوں ؟ کیا اللہ کے جملہ احکامات اوامراور نواہی سب برابر نہیں ہیں؟!!
درس نظامی پڑھانے والوں کا قرآن پر جھوٹ
مکہ مدینہ سے لیکر سارے عالم اسلام میں جھنگل کی حویلیوں کے تیار کردہ اماموں اور عالموں کی یہ دعوی ہے کہ قرآن ایک مبہم کتاب ہے اسے علم حدیث ہی کھولتا ہے سواء حدیث کے قرآن کو سمجھنا مشکل اور محال ہے قارئین حضرات نے ایک تو ابھی ابھی بخاری کی حدیث سے قرآن کی تفسیر سورت النجم کی آیت (20-53) میں دیکھ لیا کہ ان اماموں نے جناب رسول کو معاذ اللہ اپنی تفسیر میں بتوں کو سجدہ کرادیا ہے سو محترم قارئین کو میں زحمت دیتا ہوں کہ آئیں اور قرآن سے معلوم کریں کہ کیا وہ اپنی تفہیم تفسیر اور تفصیل کے لئے کسی ازبک تاجک نیشاپوری روایت ساز امام کا محتاج ہے؟ جواب میں قرآن حکیم فرماتا ہے کہ الَر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (1-11) یعنی میں اللہ اپنی کتاب کو دیکھتے ہوئے بتا رہا ہوں کہ یہ میری کتاب ساری کی ساری محکم آیات پر مشتمل ہے اسکے بعد یہ کتاب تفصیل کی ہوئی ہے حکیم اور خبیر اتھارٹی کی طرف سے (جو حکیم اور خبیر اتھارٹی خود اللہ کی ذات ہے) دوسرے مقام پر فرمایا کہ وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَى عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ  (52-7) یعنی ہم ان لوگوں کے پاس ایسی کتاب لے آئے ہیں جو ساری کی ساری علمی اور ہدایت کے پئمانوں پر تفصیل کردہ ہے (لیکن یہ بات ضرور ذہنوں میں رہے کہ) اس کتاب کی تفصیل ایسی قوم کیلئے ہے جو ایمان رکھنے والے ہوں اللہ پر۔ اب ہر کوئی جاکر دیکھے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاں سے ملنے والی نصاب تعلیم کے درس نظامی اور تبلیغی نصاب کو مروج کے لئے تنخواہوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
جناب قارئین! میں نے جو ابھی عرض کی کہ درس نظامی کے فاضل دستار بندوں کا یہ اعلان ہے کہ قرآن کو انکی احادیث اور روایات ہی تفسیر کرتی ہیں پھر یہ لوگ اپنی ایسی دعوی کے بعد جھٹ سے فاتحانہ انداز میں سوال کرتے ہیں کہ دکھاؤ قرآن میں انکی والی نماز کا تفصیل رکعات کی تعداد ترتیب  اور سجود کے ساتھ وترکی نماز تراویح کی نماز مشکل کشائی کی نماز، تہجد اور اشراق کی نماز کی تفاصیل کہاں لکھی ہوئی ہیں کس سورت اور کس پارے میں لکھی ہوئی ہیں۔ تو جواب میں ہم بھی ادب سے ان فضلاء کرام سے سوال کرتے ہیں کہ از راہ عنایت لاکھوں تعداد کے ذخیرہ احادیث میں سے کوئی ایک ہی حدیث ایسی بتائیں دکھائیں حوالہ دیں جس میں پہلے قرآن حکیم میں بقول انکے معاذ اللہ مبہم نماز یا مبہم صلوۃ کی آیت لکھی گئی ہو پھر علم حدیث کی روایت اسکا تفسیر اور تفصیل پیش کرتی ہو جس حدیثی تفسیر سے قرآن کے متن کے ابہام کو بھی کھولا گیا ہو اور متن حدیث میں پانچ نمازوں کی تعداد کے ساتھ انکی رکعات کا عدد سجود کا عدد اور  اوقات کا تعین جس سے قرآن کا ایسا ابہام جسے تصریف آیات نے بھی نہ کھولا ہو۔ لاکھوں احادیث میں سے کوئی ایک ہی حدیث کوئی بھی شیخ الحدیث لے آئے میدان میں میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپکے پاس ایسی کوئی ایک بھی حدیث نہیں ہے اسلئے تنخواہ خوری پر امام اور دانشور بنے ہوئے فاضلوں کے ساتھ بھی قرآن حکیم خطاب فرماتا ہے کہ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ۔فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ۔لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ۔أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ۔وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ  (77 تا 82-56) خلاصہ (ارضی اور سماوی حقائق شاہد ہیں کہ) یہ قرآن بہت ہی معزز کتاب ہے جو نہایت محفوظ ہے جسکا تمہاری حدیثیں کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گی) قرآنی مطالب کو ذہنوں کی پاکیزگی سے ہی پہنچا جا سکتا ہے یہ کتاب تو عالمین کو پالنے والے رب کی نازل کردہ ہے یہ کتاب قرآن احسن ترین حدیثوں والی کتاب ہے (23-39) ان قرآنی احسن حدیثوں کے حقائق کو آپکی مجوسی آتش پرست اماموں کی گھڑی ہوئی احادیث سے ٹس سے مس بھی نہیں کیا جاسکتا جن اکاذیب کے پلندوں کو تمنے روزگار کا وسیلہ بنایا ہوا ہے۔
علم حدیث کو علم السنۃ کے نام سے مشہور کرنے کا پسمنظر
محترم قارئین! آپ نے سنت رسول، قرآن وسنت کے اصطلاحی جملے ضرور سنے ہونگے درس نظامی کی علمی دنیا میں جن کی سرپرستی بنوعباس کے عرصہ خلافت سے لیکر آج تک قدیم قران دشمن اتحاد ثلاثہ یعنی یہود مجوس اور نصاری کرتے ہوئے آرہے ہیں رد قرآن میں گھڑے ہوئے علم حدیث کو علم السنۃ کے نام سے موسوم اور مشہور کرنا یہ انکا اور انکے ٹکڑوں پر پلنے والی امامی گینگ کا کار نامہ ہے جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ علم الاحادیث کو اللہ کا عطا کردہ وحی خفی نامی علم تسلیم کرایا جائے ویسے تو لفظ سنۃ قران حکیم میں کل اٹھارہ بار استعمال ہوا ہے جن جملہ استعمالات میں ایک بار بھی لفظ سنۃ کو کسی بھی غیر خداوندی علمی سبجیکٹ کے عنوان سے نتھی کرکے نہیں لایا گیا ہے اصل میں اتحاد ثلاثہ کی علمی لئبارٹریوں اور جھنگل کی حویلیوں سے تیار شدہ امامی کھیپ والے جانتے تھے کہ وہ رد قرآن میں بنائی ہوئی اپنی حدیثوں کو جناب رسول کے اسم گرامی سے منسوب کرنے کے بعد بھی جب تک اسے اللہ سے عطا کردہ وحی کا کوئی سا قسم نہیں قبول کراسکینگے اتنے تک قرآن سے مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔
درس نظامی کی سرپرست تھنک ٹئنک کے یہود مجوس ونصاری کے دانشور جانتے تھے کہ لفظ سنۃ پورے قرآن میں جناب خاتمی المرتبت رسول علیہ السلام کے نام کے ساتھ کہیں بھی استعمال نہیں ہوا ہے اور نہ ہی علم الحدیث کی روایات کے ساتھ اسکا استعمال ہوا ہے اسکے باوجود انہوں نے دیکھا کہ لفظ سنہ قرآن حکیم میں جب اللہ کے نام کے ساتھ یعنی اللہ کا قانون اللہ کا طریقہ اللہ کا دیا ہوا اسلوب اور سسٹم کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے تو جناب خاتم الانبیاء کے اسم گرامی کے ساتھ اسکے استعمال نہ ہونے کے باوجود اتحاد ثلاثہ کی مافیائی قرآن دشمن ٹیم نے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ کر انکو علم سنۃ، قرآن و سنت اور سنت رسول کے نام دئے تاکہ انکی روایات کو بھی علم قران کے مثل اور مترادف خداوندی علم قبول کرایا جاسکے اس تیرہ سوسالہ پرانی سازش نے اتنے تو بال وپر کھولے ہیں جواب باقائدہ اہل سنت اور سنی مارکہ اسلام بھی قرآن کے دئے ہوئے اسلام کے مقابلہ میں اپنی ایک مکمل شناخت بناچکا ہے جسکا نصاب تعلیم رد قرآن میں بنائی ہوئی احادیث ہیں اور اہل سنت مارکہ اسلام جو زیدی شیعت کی پیداوار ہے اسکی جملہ ذیلی برانچیں، اثنا عشری اور اسماعیلی شیعت کی طرح مسائل دین قرآن کے بجاء اپنے اپنے اماموں کی فقہوں اور روایات سے پڑھتے پڑھاتے ہیں، سیکھتے اور سناتے ہیں۔ آج عملی طور پر کتاب قرآن دشمنوں کی بنائی ہوئی حدیثوں سے شکست کھاچکا ہے۔ قرآن حکیم کے قانون پر جناب رسول علیہ السلام نے حکومت قائم کی (105-4) اس میں صدیوں سے رائج غلامی اور غلام سازی پر بندش کا قانون قرآن لاگو کیا گیا (67-8) (4-47) (18-35) (38-53) اسکے مقابلہ میں علم حدیث اور امامی فقہوں نے غلامی کو از سر نو جائز بنا کر رائج کیا جن کے ایسے رواج سے بنو عباس کے کئی خلفاء اسلام اور باطنی اسلام کے کئی امام لونڈیوں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ انکے لئے حوالہ جات اتنے ہی کافی ہیں کہ باطنی حکمران اماموں کی تاریخ کتاب اصول کافی میں میلاد ائمہ کے ابواب میں انکے شجرے پڑھے جائیں اور خلفاء اہل سنت کے شجرے تاریخ بنوعباس کے کسی بھی کتاب میں انکے خاندانی شجرے مل جائیں گے۔
قرآن نے شادی کی عمر کے لئے ذہنی رشد تک پہنچنے (6-4) اور جسمانی پختگی تک پہنچنے کی عمر (15-46) بتائی جو تیس سال کے آس پاس بنتی ہے شادی کے سواء نبوت کے لئے عمر کی حد چالیس سال ہے۔ جبکہ امامی علوم کے درس نظامی والے علم میں شادی کی عمر امام بخاری اور امام یعقوب کلینی کے حوالوں سے چھ سال اور نو سال بنتی ہے معاشی معاملہ میں قرآن نے ضرورت سے زائد مال رکھنے پر بندش لگائی ہے (219-2) اور علم حدیث نے نو لمٹ جاگیرداری کو جائز کیا ہوا ہے علم حدیث کے ذریعے قوانین قرآن کو رد کرنے کی مزید کچھ مثالیں میری کتاب فتنہ انکار قرآن کب اور کیسے میں ملاحظہ کئے جائیں اور اس موضوع کو غور سے پڑھیں گے تو پھر گاسلیٹی اور گلابی مسلم حکمرانوں کے اس اسلامی قانون کی معنی سمجھ میں آجائے گی جس میں وہ بھی عبارت لکھ کرامت مسلمہ پر اپنی اسلام دوستی جتلاتے اور تھوپتے ہیں کہ ہم نے آئین میں یہ لکھ دیا ہے کہ ملک کا کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائیگا اس قسم کے اعلان کی تو صاف صاف یہ معنی نکلتی ہے کہ انکی والی علم حدیث کی سنت کو باقی اور رائج رکھنے سے قرآن کو میدان پر آنے ہی نہیں دیں گے۔ یعنی علم حدیث کا نام ہی جب علم سنۃ ہے جسکی حدیثیں بنائی گئی ہی قرآن دشمنی کے بنیاد پر ہیں تو جب تک حدیثیں سلامت رہیں گی اتنے تک قرآن کے آنے کے راستے بند رہیں گے۔ مسلم امت کی علمی دنیا کا عباسی دور کا وزیر اور پہلا نامور عالم بنام نظام الدین بھی فاطمی شیعہ تھا اور دوسرا درس نظامی کا مرتب عالم دین نظام الدین سہالوی بھی حنفی اور زیدی شیعہ تھا۔ مدارس عربی کے تیسرے درس نظامی کا مرتب مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی بھی حنفی زیدی شیعہ تھا یہ آخری دوخود کو اہل سنت بھی کہلاتے ہیں جو اصطلاح عباسی خلفاء کی زیدی حنفی شیعت کا ملخص ہے، مطلب کہ قرآن حکیم کا اقتدار امت مسلمہ کی درسگاہوں اور حکمرانی کی مسندوں سے بنوا میہ کے زوال کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا۔
امام ابو حنیفہ جو زیدی شیعت کا بڑا لیڈر تھا اسنے جو اپنی کنیت حنیفہ کا ابا رکھی تھی اس میں بھی بڑی چالبازی ہے جو حنیفہ نامی کوئی بھی لڑکی اسکی بیٹی نہیں تھی یہ نسبت صرف معنوی طور پر دھوکہ دینے کے لئے تھی کہ حنیفہ کی معنی ہے باطل سے منہ موڑ کر حق کی طرف آنیوالا، یعنی صرف کنیت سے لوگ سمجھ جائیں کہ یہ کوئی بڑا حق پرست ہے۔ اسطرح فاطمی خلافت کا مذہبی امام اول اسکی بھی کنیت ابوحنیفہ تھی بغیر حنیفہ نامی لڑکی کے باپ ہونے کے صرف دھوکہ دینے کے لئے اہل سنت کے ابو حنیفہ کی طرح۔


ہم آہ بھی کہتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا ہی نہیں ہوتا

ملت اسلامیہ کے نام پر جتنے بھی فرقے منسوب ہیں ان سب کی بنیاد خلاف قرآن علم حدیث کی روایات پر ہے، اہل سنت کی حدیثیں جدا، اہل حدیث کی حدیثیں جدا اہل شیعت کی حدیثیں جدا دیوبندیوں بریلویوں کی حدیثیں جدا جدا، نھ صرف اتنا بلکہ سب کی حدیثیں ایک دوسرے سے متصادم اور ہر فرقہ دوسرے فرقہ کا دشمن یہ سارے فرقوں والے ایک دوسرے کی حدیثوں کو غلط اور چھوٹ قرار دینے کے باوجود ایک دوسرے پر کبھی بھی منکر حدیث کا الزام نہیں لگاتے جبکہ ہم قرآنی علم والے قوانین قرآن کی جملہ آیات کو احسن الحدیث بہتر حدیثیں ماننے کے بعد انپر مکمل ایمان بھی رکھتے ہیں تو مذکور قرآن مخالف فرقوں والے لوگ ہمیں منکر حدیث کہکر مشہور کرتے ہیں، یہ تو اسطرح ہوا جیسے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے کہا تھا کہ ڈگری پھر بھی ڈگری ہوتی ہے خواہ وہ جھوٹی کیوں نھ ہو اسکے علاوہ عام مولوع حضرات بھی رئیسانی صاحب کے بقول کہتے ہیں کہ ضعیف حدیث پھر بھی تو حدیث ہے یہ بات تو ہوئی عام مولویوں کی لیکن میں تو ایک خاص مولوی مولانا مفتیء اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع بانی دارالعلوم کراچی کی بات بتاتاہوں جسکے پاس میں نے بخاری اور مؤطا امام مالک کے کچھ حصے پڑھے ہیں انہوں نے فرمایا کہ فضائل اعمال کیلئے سلف صالحین نے ضعیف حدیثوں کو قبول کیا ہے۔