Showing posts with label عادل سہیل. Show all posts
Showing posts with label عادل سہیل. Show all posts

Saturday, November 17, 2012

”صحیح بخاری میں روایت شدہ ،ابتدائے وحی کے بیان میں ورقہ بن نوفل کے پاس جانے والے واقعہ پر اعتراض کاجائزہ “کا جواب



صحیح بخاری میں روایت شدہ، ابتدائے وحی کے بیان میں ورقہ بن نوفل کے پاس جانے والے واقعہ پر اعتراض کاجائزہ  کا جواب

پہلے  عادل سہیل کا مضمون پڑھ لیں،  پھر مضمون کا جواب پڑھ لیں۔

بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
بِسّم اللہِ و الحَمدُ لِلہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہُ والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاء نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جس نے نفس کی خواہش کے مطابق بات نہیں کی اور جس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی
چند ہی روز پہلے میں نے صحیح بخاری کی وہ روایت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر وحی کے نزول کی ابتداء کا واقعہ بیان ہوا ہے ،وحی کے نزول کی ابتداء کے واقعہ کی روایات صحیح بخاری میں تین مختلف کتب کے ابواب میں مروی ہے ، جن میں سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ، کتاب التعبیر کے پہلے بات والی روایت کے ایک اضافی حصے کی بنا پر اس واقعے کو مشکوک بنایا جاتا ہے اور اس پر اور پھر اسے بنیاد بنا کر صحیح بخاری اور دیگر کتب احادیث پر اعتراضات کیے جاتے ہیں ، اُس روایت کے بارے میں پائے جانے والے شک ، اور اس شک کی بنا پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب بعنوان ’’’’’صحیح بخاری کی ایک روایت میں اضافی حصے کی تحقیق ‘‘‘‘‘ پیش کیا تھا ،اُس کی تفصیل وہاں پڑھی جا سکتی ہے ، اس جواب کے بعد بھتیجے عبداللہ حیدر کی طرف سے یہ خبر کی گئی کہ کچھ لوگ اِس روایت پر اس لیے بھی اعتراض کرتے ہیں ، اور اس لیے بھی اس کا انکار کرتے ہیں کہ اس روایت میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ورقہ بن نوفل کے پاس جا کر اس سے کچھ دریافت کرنا سُورت یونس کی آیت رقم 94 کے خلاف ہے ، لہذا یہ واقعہ سچا نہیں ،