Showing posts with label Muhammad. Show all posts
Showing posts with label Muhammad. Show all posts

Friday, August 31, 2012

پردہ کے متعلق آیتیں ، حجاب چہرے کا پردہ نہیں


پردہ  کے  متعلق  آیتیں ، حجاب چہرے  کا پردہ  نہیں

تو جناب قارئین !
 کوئی امام یا حدیثوں کے پڑھانے والے پورے قرآن میں ایسی آیت پردہ کے نام پر نہیں دکھا سکتے جن میں حجاب کا لفظ ہو ۔

Wednesday, August 29, 2012

بخاری کا خلاف قرآن آل رسول کا تصور



بخاری کا خلاف قرآن  آل  رسول  کا  تصور

قرآن دشمنی پر مناقب کا غلاف: عائشہ کے ساتھ تعظیمی جملہ نہیں

عائشہ کے نام کے ساتھ کچھ بھی نہ لکھنا اور فاطمہ کے نام کے ساتھ علیھا السلام لکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟

بخاری کی فقہ سے بخاری کا تعارف

حد ثنا علیّ ان فاطمہ علیھا السلام اشتکت ما تلقی من الرحیٰ مما تطحن فبلغھا ان رسول اللہ ﷺ اتی بسبی فاتتہ تسالہ خادما فلم توافقہ فذکرت لعائشہ فجاء النبی ﷺ فذکرت ذالک عائشہ لہ فاتانا وقد دخلنا مضاجعنا فذھبنا لنقوم فقال علی مکانتکما حتی وجدت برد قدمیہ علی صدری فقال الا ادلکما علی خیر مما سألتماہ اذا اخذ تما مضا جعکمافکبر اللہ اربعا وثلاثین واحمد ا ثلاثا وثلاثین و سبحا ثلاثا وثلاثین فان ذالک خیر لکما مما سأ لتماہ ۔
حدیث نمبر354باب نمبر248کتاب الجہاد و السیر ، بخاری

خلاصہ :
 حدیث بیان کی ہمارے ساتھ علی نے کہ فاطمہ علیہا السلام نے شکایت کی کہ آٹا پیسنے کی چکی سے اسے تکلیف پہنچ رہی تھی۔ ایک دن اسے خبر پہنچی کہ رسول اللہ کے پاس قیدی لائے گئے ہیں تو یہ بھی ان کے پاس اپنے لئے ایک خادم کے طور پر قیدی لینے گئی ۔لیکن اسے مدعا پیش کرنے کا موقع نہیں ملا تو عائشہ سے اپنے آنے کا مقصد بیان کرکے گھر واپس آئی ۔
تو جب رسول اللہ گھر آئے تو عائشہ نے اسے وہ ماجرا سنایا پھر رسول اللہ سیدھے ہمارے گھر آئے جبکہ ہم اپنی آرام گاہ میں داخل ہو چکے تھے تو ہم اٹھنے لگے رسول اللہ کیلئے تو فرمایا اپنی جگہ پر رہیں ۔
 میں نے رسول اللہ کے پاؤں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے پر محسوس کیا ۔
پھر فرمایا کہ تم نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے کیوں نہ اس سے اچھی کا تمہیں بتاؤں۔ وہ یہ کہ تم سوتے وقت 34بار اللہ اکبر،33بار الحمد للہ اور33بار سبحان اللہ پڑھا کرو ۔یہ تمہارے لئے خادم مانگنے اور رکھنے سے بہتر ہے۔

تبصرہ:
 یہ حدیث قرآن کی آیت :
 
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (8:67)
پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے ۔
 یعنی رسول اللہ کو کسی کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں ہے کے خلاف ہے۔
اس لئے خلاف قرآن ہونے کے ناطے جھوٹی جعلی اور بوگس روایت ہے ۔

Monday, August 27, 2012

خلاف قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل


خلاف  قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل

اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں،  ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔

نیک  نیتی  کی  بنیاد  پر Mercy Killing لیگل  بن  جاتی  ہے۔

میں یہاں پوپ بینی ڈکٹ کے اس الزام کہ دین اسلام نے کوئی ایسی چیز پیش نہیں کی جو انسانیت کے لئے فائدہ مند ہو،  اسے سہارا دینے والی ایک حدیث کا حوالہ دیتاہوں جو اس دشمن اسلام کے الزام کا بنیاد بنتی ہے،  اور حدیث قرآن حکیم کی طرف سے سمجھائے ہوئے ”اصلاح کائنات“ کے فلسفہ کی جڑ  اکھیڑ  کر رکھ دینی ہے۔
 ویسے اس حدیث بنانے والوں کا غرض و غایت بھی کثیر الجہالت سے اسلام کی بیخ کنی کرنا مقصود ہے،
 جو اس میں جناب رسول علیہ السلام کے ہجرت والے انقلابی عمل میں ساتھ دینے والے انقلابی ساتھیوں اصحاب رسول کے کردار کشی کی بھی تلمیح کی گئی ہے۔
 یہ حدیث امام بخاری نے اپنی کتاب جس
کو ان لوگوں نے صحیح کا لقب دیا ہوا ہے اس کے شروع شروع میں پہلے نمبر پر لائی ہے۔

 حدیث کا متن ہے
:
 سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری‎ مانوی فمن کانت ھجرته الی دنیا یصیبھا اوالی امرآةینکحھافھجرته الی ماھاجر الیه

ترجمہ
:
 اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں،  ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔  پھر جس کی نیت ہجرت کرنے سے دنیا کے لئے ہوگی وہ اسے ملے گی،  یا اگر عورت کے لئے ہوگی تو وہ اس سے نکاح کرے گا پھر ہر کسی کی ہجرت اسی چیز والی شمار کی جائے گی جس کے لئے ہجرت کی ہوگی۔ (ترجمہ ختم)

Friday, August 24, 2012

حدیث سازوں کی ازواج رسول ﷺ کو گالیا ں دینے کی ہنر مندی اورفن کاری


حدیث سازوں  کی ازواج رسول ﷺ کو گالیا ں دینے کی ہنر مندی اورفن کاری

علم حدیث کی آڑ میں تبرا : گالیا ں دینے کی ہنر مندی اورفن کاری

امہات المومنین پر شرمناک تبرا

عن ام سلمہ رضی اللہ عنھا ان النبی صلے اﷲ علیہ و سلم استیقظ لیلۃ فقال سبحان اللّٰہ ماذا انزل اللیلۃ من الفتنۃ ماذا انزل من الخزائن من یو قظ صواحب الحجرات یا رب کاسیۃ فی الدنیا عاریۃ فی اآاخرۃ
بخاری باب نمبر718تقصیر الصلوٰۃ حدیث نمبر1054صفحہ نمبر444ناشر مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور ۔

ترجمہ :
 ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐ ایک رات جاگے تو فرمایا ، سبحان اللہ! کیا کیا فتنے اور کیا کیا خزانے رات کو اُتارے گئے ہیں ۔ ہے کوئی شخص جو ان حجرے والی عورتوں کو جگا دے ۔ بہت ہی عورتیں دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں لیکن آخرت میں ننگی ہونگی ۔

Sunday, August 19, 2012

یہ حدیث ساز فحش گوئی میں بھی امام نکلے !


یہ حدیث ساز فحش گوئی میں بھی امام نکلے !

جناب قارئین!
 میں کیا کیا عرض کروں کہ یہ امام لوگ کس کوالٹی کے لوگ ہیں اور ہر ایک اپنے انداز گفتگوسے بھی پہچانا جاتا ہے۔

 اب آپ حدیث نمبر442اسی کتاب الاثار کی ملاحظہ فرمائیں جو امام محمد روایت کرتے ہیں اپنے استاد امام ابو حنیفہ سے کہ

 اخبر نا ابو حنیفہ عن رجل عن عمر بن خطابؓ انہ قال لامنعن فروج ذوات الاحساب الامن الاکفاء
 (باب تزویج الا کفاء وحق الزوج علی زوجیہ)

 حدیث کی سند میں ایک مجہول اور بغیر نام کے کسی شخص سے ابو حنیفہ روایت کرتے ہیں جس نے روایت براہ راست عمر بن الخطاب سے کی ہے فرمایا کہ

 
میں ان با حیثیت فرجوں کو ضرور روکوں گا شادی کرنے سے، سوائے ان کے جن کے شوہر بھی ان کے ہم مرتبہ ہوں ۔

Friday, August 17, 2012

ام المؤمنین عائشہؓ ، بمبئی کی فلمی دنیا کی زیب النساء اور مولوی، مولانا، دستاربند عالم دین، فاضل درسِ نظامی

ام المؤمنین عائشہؓ ، بمبئی کی فلمی دنیا کی زیب النساء اور مولوی، مولانا، دستاربند عالم دین، فاضل درسِ نظامی

انتساب
میں اپنی یہ کتاب بمبئی فلم اسٹوڈیو کی فلمی اداکارہ
زیب النساء
کے نام سے منسوب کرتا ہوں۔

ہندوستان کی فلم سازی کی تاریخ میں 1935 ؁ء سے لے کر 1945 ؁ء تک کا عشرہ تہلکہ خیز رہا ہے۔ اس عرصہ میں فلم سازی کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت پر فائز اس مرکز میں زیب النساء، سنیما کے پردۂ سیمیں پر شہرت پا چکی تھی۔ یہ شہرت کوئی نیکی کے کاموں کی بدولت نہیں تھی۔ ویسے بھی نیک نامی والی شہرت کا ملنا فلمی ماحول میں محال ہوتا ہے ، کیوں کہ فلمی ماحول ایک طرح کا بازار گناہ ہوا کرتا ہے۔ لیکن زیب النساء نے تو واقعتاً ایسے گناہوں کو گویا جونا مارکیٹ میں رہتے ہوئے بھی نیکی اور غیرت ایمانی کی مثال قائم کردی اور نیک نامی کما کر دکھا دیا۔ اس کا کارنامہ یہ ہے کہ اس کو فلم انڈسٹری کے کسی ماہر شخص نے کہا کہ تیرا نام تو کسی ماسٹرنی جیسا لگتا ہے ، تو اس نام کو بدل کر اپنا نیا نام ’عائشہ ‘ رکھ لے۔ زیب النساء نے جواب میں اسے کہا کہ یہ تو ایک عظیم ہستی کا مقدس نام ہے، یہ تو ام المؤمنین زوجۂ رسولؐ اﷲ کا نام ہے،آپ مجھ جیسی گناہ آلود ہ بازاری کردار والی عورت پر ایسا نام رکھنا چاہتے ہیں۔ پھر آگے کی کہانی تو آپ کو کہنہ مشق قلم کار شورش کاشمیری، مدیر مجلہ ’چٹان، لاہور‘ کی زبانی سنیں۔

Monday, August 13, 2012

امصص ببظر اللات ابے جا ! لات بت کی شرمگاہ چوس لے Suck Al-Lat's Clitoris

حدیث  کا ہے انداز بیان اور

امصص ببظر اللات     ابے جا ! لات بت کی شرمگاہ چوس لے

Suck Al-Lat's Clitoris
Go and Suck the Clitoris of Laat

صحیح بخاری -> کتاب الشروط
باب : جہاد میں شرطیں لگانا اور کافروں کے ساتھ صلح کرنے میں اور شرطوں کا لکھنا
حدیث نمبر : 2731-32

حدیث کا ہے انداز بیان اور


حدیث  کا ہے انداز بیان اور

جا کر اپنے باپ کی شرمگاہ چوس

Saturday, August 11, 2012

اس کو صاف صاف باپ کی گالی دو


اس کو صاف صاف باپ کی گالی دو

143 - آداب کا بیان۔ : (281)
اپنے باپ دادا پر فخر کرنے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي بن كعب قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من تعزى بعزاء الجاهلية فأعضوه بهن أبيه ولا تكنوا . رواه في شرح السنة

نظم : کمزور ایمان


نظم :  کمزور ایمان
اللہ ہے معبود اور محمدؐ رسول ہیں
یہی دو ہستیاں ہیں ، جو قابلِ قبول ہیں
جو کلمہ پڑھ کے اِن کا ، کہیں اور جا رہے ہیں
شیطان کے ہاتھوں ، وہ دھوکہ کھا رہے ہیں

نظم : مومن اور بہروپیے


نظم : مومن اور  بہروپیے 

بہروپیے بہت ہیں ، مذہب کے میدان میں
قصے کہانیاں دوڑتے ہیں ، اِن  کی رگ و جان میں

مومن ہیں صرف وہ ، جن کی جان ہے قرآن میں
نظر آتی ہے نجات اِن کو ، اللہ کے فرمان میں

نظم : آپ کے خلاف مقدمہ


نظم : آپ کے خلاف مقدمہ

کبھی سوچا ہے ، کیوں آیا ہے ، اس جہان میں
عبادت کے لیے بنا ہے تُو ، یہ رکھ دھیان میں
عبادت بھی ہو ایسی ، جو ہو قرآن کے مطابق
ورنہ تم ہو گے اور فرشتوں کے ہاتھ میں چابک

دُنیا اور آخرت دا دُکھ


دُنیا اور آخرت  دا  دُکھ
دُکھ درداں دی تھوڑ وی کوئی نہی
اَگ پانی دا جوڑ وی کوئی نہی

اللہ دے ہندیاں ، اللہ کافی اے
کِرے ہور ویکھن دی ، لوڑ ہی کوئی نہی

شرک شرارے از قلم : ناصر محمود


شرک  شرارے

نبی تو آئے تھے شرک مٹانے ، خدا کی طرف جھکانے کو
خدا کے لیے باتیں بتائیں ، نہ لوگوں سے میٹھا کھانے کو

کوئی پوجے چڑھتے سورج کو ، کوئی پوجے چندا ماموں کو
کوئی پیٹ پجاری ہے ، وہ پوجے میٹھے آموں کو

امر بالمعروف و نہی عن المنکر


امر  بالمعروف و نہی عن المنکر

جو مانگنا ہے ، مانگ اللہ سے ، کیوں اللہ سے شرمائے
ہدایت ہے سب سے بہتر نعمت ، خود اللہ ہی فرمائے

قرآن ہی وہ کتاب ہے ، جو سیدھی راہ دکھائے
چھوڑ قرآن کیوں تُو ، در غیر پہ دھکے کھائے؟

قرآن ایک آسان کتاب ، اللہ ہی فرمائے
جو کہے ، یہ ہے مشکل ، دماغی علاج کرائے

بے سمجھے کی تلاوت سے ، تُو خُوب ثواب کمائے
پڑھے تُو نہ ترجمہ ، شیطان جشن منائے

اجازت تو تھی نہ ایسی ، کہ اُمت بیٹھ جائے
شیطان کو ملا موقعہ ، گمراہی کے تیر چلائے

ہے ایسے مجاہدوں کی ضرورت ، جو قرآن لے کر آئیں
سوئی اُمتِ مسلمہ کو ، پکڑ کان اُٹھائیں

از قلم : ناصر محمود

سجے ہیں صرف جسم ، دل آباد ہی نہیں


سجے  ہیں صرف جسم   ،  دل آباد  ہی نہیں

نبیؐ نے دین کو ، نہ ذریعہ معاش بنایا
نہ کسی سے مانگا
، نہ کسی کا کھایا

اصحابِ رسولؐ کا بھی ، تو یہی حال تھا 
خدا کے لیے جان اور اپنا مال تھا 

خدا کی کتاب ، وہ صبح شام پڑھتے تھے 
نہ کہانیاں سنتے ، نہ فرضی قصے گھڑتے تھے

یہ سنت کسی کو ، یاد ہی نہیں
سجے ہیں صرف جسم ، دل آباد ہی نہیں

از قلم : ناصر محمود

جنت و دوزخ از قلم : ناصر محمود


جنت  و  دوزخ

دیکھ پیارے کر محنت ، خدا کی پسند کی آج
کل مالک بن کے جنت کا ، کرے گا حُوروں پہ راج

محنت ایسی ہو ، جو ہو ٹھیک قرآن کے مطابق
ورنہ تُو ہو گا اور فرشتوں کے ہاتھ میں چابک

کیسی قسمت ماڑی


  کیسی  قسمت  ماڑی

بے سمجھے قرآن پڑھ کے ، ماری اپنے ہی کلہاڑی
لگائی شیطان سے دوستی ، خدا سے صرف بگاڑی

جس نے بھی ایسا کیا ، اُس نے کسی کا کیا بگاڑا
اپنے ہاتھوں سے لکھی اپنی ، کیسی قسمت ماڑی

کر لے لاڈ جتنے مرضی ہیں ، بن کے اُمت پیاری
آ سمجھ جاۓ گی ساری ، جب فرشتوں نے کُٹ چاڑی

جنت چاہتے ہو پیارے ، تو قرآن کا ترجمہ پڑھو
بے سمجھے قرآن پڑھ کے ، نہ شیطان کے ہتھے چڑھو

قرآن کتاب ہدایت کی ہے ، صرف ثواب کے لیے نہیں
جس طرح تو پڑھتا ہے ، اِس کے لیے نہیں

از قلم : ناصر محمود

آؤ سمجھیں قرآن کو


آؤ سمجھیں قرآن کو

نبی تو لے کے آئے تھے ، قرآن دوستو
ہم ہیں خوش ، قصے کہانیوں پہ دوستو

کون ہے جو کہتا ہے ، قران کو تو سمجھو
میرا سلام اُسے ، پیش کرو دوستو

کوئی دین کا بیوپاری ، کوئی پیٹ کا پجاری
وہ کون ہے بھائیو ، جو فکر کرے ہماری

جو قرآن کا نہ کہیں ، وہ کیا مذہبی راہنما ہیں
شیطان کے ساتھی ، وہ صرف ہیں مداری

قرآن وہ راہ دکھائے ، جو صراطِ مستقیم ہے
قصے کہانیاں تو ، شیطانوں کی تقسیم ہے
 
عشقِ رسول میں ، پڑھو ترجمہ قرآن کا
شیطان ہے ہمارا دشمن ، کرو فکر ایمان کا

فکرِ قرآن اصل میں ، فکرِ رسول ہے
 
یہی عشقِ رسول ہے ، جو خدا کو قبول ہے
 
 
ہم ہی تھے بے وقوف ، کیوں چھوڑا قرآن کو
کل سے نہیں ، آج سے ، آؤ سمجھیں قرآن کو

از قلم : ناصر محمود

اُمتِ مسلمہ کی دُعا

اُمتِ مسلمہ کی دُعا

قرآن بنایا تو نے اپنا ، کتنا ہی آسان
ہم نہ سمجھے ، ہم نہ سمجھے ، نکلے ہم نادان

ہر غلطی کا ، ہر غلطی کا ، کرتے ہیں اقرار
شیطان کے ساتھی بن بیٹھے ، بھول گئے قرآن

دے دے اللہ ، دے دے اللہ ، ہم سب کو قرآن
جس سے راضی ، تو ہو ہم سے ، دے ایسا ایمان

ایسے ہم سے کام کرا ، تو ہو جن سے راضی
شیطان ہم سے کھیل رہا ہے ، جیت نہ جائے بازی

ہم کو بنا دے دنیا بھر کے نیکوں کا امام
تجھ کو کر لیں راضی ہم ، کر کے اچھے کام

دے دے دنیا ،  دے دے جنت ، سب کچھ دے دے ہم کو
صبح کا بھولا ، بھولا نہیں ، جب گھر وہ لوٹے شام

دے دے اللہ ، دے دے اللہ ، ہم سب کو تو معافی
دنیا میں جو ذلت کمائی ، ہمارے لیے ہے کافی

سمجھا  نہیں  قرآن  جو  ،  اُس  کا  غم  ہی  کھاتا جائے
اب رحمت تیری ،  رحمت تیری ،  رحمت  بھاگی  آئے
کر قبول دُعا ہماری اور کدھر ہم بھاگیں
صدیوں لمبی نیند کے بعد ، آخر ہم بھی جاگیں

از قلم : ناصر محمود