حدیث ساز گروہ کی
نظر میں علیؓ اور معاویہ
ؓ دونوں دوزخی ہیں، نعوذ باللہ من ذلک
عن
الحسن قال خرجت بسلاحی لیالی الفتنۃ
فاستقبلنی ابو بکرۃ
فقال این ترید ؟ قلت ارید نصرۃ
ابن عم رسول اللہ صلے اﷲ علیہ و سلم قال ، قال رسول اللہﷺ اذا تواجہ المسلمان
بسیفھما فکلا ھما من اھل النار قیل فھذا القاتل فما بال المقتول قال انہ اراد قتل
صاحبہٖ ۔
بخاری شریف،کتاب الفتن ، باب نمبر1115حدیث نمبر1962
بخاری شریف،کتاب الفتن ، باب نمبر1115حدیث نمبر1962
خلاصہ:
حسن صاحب کہتے ہیں کہ میں فتنے کی راتوں میں ہتھیار لے کر نکلا تو میرے سامنے ابو بکرہ آئے اور پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ ارادہ کرتا ہوں حضورؐ کے چچا زاد بھائی کی مدد کرنے کا تو اس نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلے اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جب مسلمان تلواریں لے کر آمنے سامنے آئیں تو دونوں دوزخی ہیں ۔ پوچھا گیا کہ قاتل کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ وہ دوزخ میں کیوں گیا لیکن مقتول کا کیا قصور ؟ تو فرمایا کہ یہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا ۔
حسن صاحب کہتے ہیں کہ میں فتنے کی راتوں میں ہتھیار لے کر نکلا تو میرے سامنے ابو بکرہ آئے اور پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ ارادہ کرتا ہوں حضورؐ کے چچا زاد بھائی کی مدد کرنے کا تو اس نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلے اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جب مسلمان تلواریں لے کر آمنے سامنے آئیں تو دونوں دوزخی ہیں ۔ پوچھا گیا کہ قاتل کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ وہ دوزخ میں کیوں گیا لیکن مقتول کا کیا قصور ؟ تو فرمایا کہ یہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا ۔