بخاری کا خلاف قرآن آل رسول کا تصور
قرآن دشمنی پر مناقب کا غلاف: عائشہ کے ساتھ تعظیمی جملہ نہیں
عائشہ کے نام کے ساتھ کچھ بھی نہ لکھنا اور فاطمہ کے نام کے ساتھ علیھا
السلام لکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟
بخاری کی فقہ سے بخاری کا تعارف
حد ثنا علیّ ان فاطمہ علیھا السلام اشتکت ما تلقی من الرحیٰ مما تطحن
فبلغھا ان رسول اللہ ﷺ اتی بسبی فاتتہ تسالہ خادما فلم توافقہ فذکرت لعائشہ فجاء
النبی ﷺ فذکرت ذالک عائشہ لہ فاتانا وقد دخلنا مضاجعنا فذھبنا لنقوم فقال علی
مکانتکما حتی وجدت برد قدمیہ علی صدری فقال الا ادلکما علی خیر مما سألتماہ اذا
اخذ تما مضا جعکمافکبر اللہ اربعا وثلاثین واحمد ا ثلاثا وثلاثین و سبحا ثلاثا
وثلاثین فان ذالک خیر لکما مما سأ لتماہ ۔
حدیث نمبر354باب نمبر248کتاب الجہاد و السیر ، بخاری
حدیث نمبر354باب نمبر248کتاب الجہاد و السیر ، بخاری
خلاصہ :
حدیث بیان کی ہمارے ساتھ علی نے کہ فاطمہ علیہا السلام نے شکایت کی کہ آٹا پیسنے کی چکی سے اسے تکلیف پہنچ رہی تھی۔ ایک دن اسے خبر پہنچی کہ رسول اللہ کے پاس قیدی لائے گئے ہیں تو یہ بھی ان کے پاس اپنے لئے ایک خادم کے طور پر قیدی لینے گئی ۔لیکن اسے مدعا پیش کرنے کا موقع نہیں ملا تو عائشہ سے اپنے آنے کا مقصد بیان کرکے گھر واپس آئی ۔
تو جب رسول اللہ گھر آئے تو عائشہ نے اسے وہ ماجرا سنایا پھر رسول اللہ سیدھے ہمارے گھر آئے جبکہ ہم اپنی آرام گاہ میں داخل ہو چکے تھے تو ہم اٹھنے لگے رسول اللہ کیلئے تو فرمایا اپنی جگہ پر رہیں ۔
میں نے رسول اللہ کے پاؤں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے پر محسوس کیا ۔
پھر فرمایا کہ تم نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے کیوں نہ اس سے اچھی کا تمہیں بتاؤں۔ وہ یہ کہ تم سوتے وقت 34بار اللہ اکبر،33بار الحمد للہ اور33بار سبحان اللہ پڑھا کرو ۔یہ تمہارے لئے خادم مانگنے اور رکھنے سے بہتر ہے۔
حدیث بیان کی ہمارے ساتھ علی نے کہ فاطمہ علیہا السلام نے شکایت کی کہ آٹا پیسنے کی چکی سے اسے تکلیف پہنچ رہی تھی۔ ایک دن اسے خبر پہنچی کہ رسول اللہ کے پاس قیدی لائے گئے ہیں تو یہ بھی ان کے پاس اپنے لئے ایک خادم کے طور پر قیدی لینے گئی ۔لیکن اسے مدعا پیش کرنے کا موقع نہیں ملا تو عائشہ سے اپنے آنے کا مقصد بیان کرکے گھر واپس آئی ۔
تو جب رسول اللہ گھر آئے تو عائشہ نے اسے وہ ماجرا سنایا پھر رسول اللہ سیدھے ہمارے گھر آئے جبکہ ہم اپنی آرام گاہ میں داخل ہو چکے تھے تو ہم اٹھنے لگے رسول اللہ کیلئے تو فرمایا اپنی جگہ پر رہیں ۔
میں نے رسول اللہ کے پاؤں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے پر محسوس کیا ۔
پھر فرمایا کہ تم نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے کیوں نہ اس سے اچھی کا تمہیں بتاؤں۔ وہ یہ کہ تم سوتے وقت 34بار اللہ اکبر،33بار الحمد للہ اور33بار سبحان اللہ پڑھا کرو ۔یہ تمہارے لئے خادم مانگنے اور رکھنے سے بہتر ہے۔
تبصرہ:
یہ حدیث قرآن کی آیت :
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (8:67)
پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے ۔
یعنی رسول اللہ کو کسی کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں ہے کے خلاف ہے۔
اس لئے خلاف قرآن ہونے کے ناطے جھوٹی جعلی اور بوگس روایت ہے ۔
یہ حدیث قرآن کی آیت :
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (8:67)
پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے ۔
یعنی رسول اللہ کو کسی کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں ہے کے خلاف ہے۔
اس لئے خلاف قرآن ہونے کے ناطے جھوٹی جعلی اور بوگس روایت ہے ۔