خلاف قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل
اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں، ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی
اس
نے نیت کی ہوگی۔
نیک نیتی کی بنیاد پر Mercy
Killing لیگل بن جاتی ہے۔
میں یہاں پوپ بینی ڈکٹ کے اس الزام کہ دین اسلام نے کوئی ایسی چیز پیش
نہیں کی جو انسانیت کے لئے فائدہ مند ہو، اسے
سہارا دینے والی ایک حدیث کا حوالہ دیتاہوں جو اس دشمن اسلام کے الزام کا بنیاد
بنتی ہے، اور حدیث قرآن حکیم کی طرف
سے سمجھائے ہوئے ”اصلاح کائنات“ کے
فلسفہ کی جڑ اکھیڑ کر رکھ دینی ہے۔
ویسے اس حدیث بنانے والوں کا غرض و غایت بھی کثیر الجہالت سے اسلام کی بیخ کنی کرنا مقصود ہے، جو اس میں جناب رسول علیہ السلام کے ہجرت والے انقلابی عمل میں ساتھ دینے والے انقلابی ساتھیوں اصحاب رسول کے کردار کشی کی بھی تلمیح کی گئی ہے۔
یہ حدیث امام بخاری نے اپنی کتاب جس کو ان لوگوں نے صحیح کا لقب دیا ہوا ہے اس کے شروع شروع میں پہلے نمبر پر لائی ہے۔
حدیث کا متن ہے:
ویسے اس حدیث بنانے والوں کا غرض و غایت بھی کثیر الجہالت سے اسلام کی بیخ کنی کرنا مقصود ہے، جو اس میں جناب رسول علیہ السلام کے ہجرت والے انقلابی عمل میں ساتھ دینے والے انقلابی ساتھیوں اصحاب رسول کے کردار کشی کی بھی تلمیح کی گئی ہے۔
یہ حدیث امام بخاری نے اپنی کتاب جس کو ان لوگوں نے صحیح کا لقب دیا ہوا ہے اس کے شروع شروع میں پہلے نمبر پر لائی ہے۔
حدیث کا متن ہے:
سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول انما
الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی فمن کانت ھجرته الی دنیا یصیبھا اوالی
امرآةینکحھافھجرته الی ماھاجر الیه
ترجمہ :
اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں، ہر آدمی
کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔ پھر جس کی نیت ہجرت کرنے سے دنیا کے
لئے ہوگی وہ اسے ملے گی، یا اگر عورت کے لئے ہوگی تو وہ اس سے نکاح کرے گا پھر ہر کسی کی ہجرت
اسی چیز والی شمار کی جائے گی جس کے لئے
ہجرت کی ہوگی۔ (ترجمہ ختم)