Showing posts with label نیت. Show all posts
Showing posts with label نیت. Show all posts

Saturday, September 1, 2012

صحیح البخاری کی پہلی حدیث پر اعتراضات کا جائزہ اور جواب در جواب


صحیح البخاری کی پہلی حدیث پر اعتراضات کا جائزہ اور جواب در جواب

جواب در جواب:

اللہ پاک نے سارے قرآن میں عربی زبان کے لفظ "نیت" کو کسی ایک بھی موقعہ پر کہاں استعمال کیا ہے ؟؟؟
آپ کی مذکورہ آیات میں بھی نہیں کیا !!!

کیا آپ کو خواہش اور نیت کا فرق معلوم نہیں ؟؟؟


عادل سہیل نے کہا !!!

اسی بلاگ پر پوسٹ کی گئی تحریر 

Monday, August 27, 2012

خلاف قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل


خلاف  قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل

اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں،  ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔

نیک  نیتی  کی  بنیاد  پر Mercy Killing لیگل  بن  جاتی  ہے۔

میں یہاں پوپ بینی ڈکٹ کے اس الزام کہ دین اسلام نے کوئی ایسی چیز پیش نہیں کی جو انسانیت کے لئے فائدہ مند ہو،  اسے سہارا دینے والی ایک حدیث کا حوالہ دیتاہوں جو اس دشمن اسلام کے الزام کا بنیاد بنتی ہے،  اور حدیث قرآن حکیم کی طرف سے سمجھائے ہوئے ”اصلاح کائنات“ کے فلسفہ کی جڑ  اکھیڑ  کر رکھ دینی ہے۔
 ویسے اس حدیث بنانے والوں کا غرض و غایت بھی کثیر الجہالت سے اسلام کی بیخ کنی کرنا مقصود ہے،
 جو اس میں جناب رسول علیہ السلام کے ہجرت والے انقلابی عمل میں ساتھ دینے والے انقلابی ساتھیوں اصحاب رسول کے کردار کشی کی بھی تلمیح کی گئی ہے۔
 یہ حدیث امام بخاری نے اپنی کتاب جس
کو ان لوگوں نے صحیح کا لقب دیا ہوا ہے اس کے شروع شروع میں پہلے نمبر پر لائی ہے۔

 حدیث کا متن ہے
:
 سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری‎ مانوی فمن کانت ھجرته الی دنیا یصیبھا اوالی امرآةینکحھافھجرته الی ماھاجر الیه

ترجمہ
:
 اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں،  ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔  پھر جس کی نیت ہجرت کرنے سے دنیا کے لئے ہوگی وہ اسے ملے گی،  یا اگر عورت کے لئے ہوگی تو وہ اس سے نکاح کرے گا پھر ہر کسی کی ہجرت اسی چیز والی شمار کی جائے گی جس کے لئے ہجرت کی ہوگی۔ (ترجمہ ختم)