Showing posts with label Tahreef. Show all posts
Showing posts with label Tahreef. Show all posts

Monday, August 27, 2012

خلاف قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل


خلاف  قرآن حدیث إنما الأعمال بالنيات کی فنی تحلیل

اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں،  ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔

نیک  نیتی  کی  بنیاد  پر Mercy Killing لیگل  بن  جاتی  ہے۔

میں یہاں پوپ بینی ڈکٹ کے اس الزام کہ دین اسلام نے کوئی ایسی چیز پیش نہیں کی جو انسانیت کے لئے فائدہ مند ہو،  اسے سہارا دینے والی ایک حدیث کا حوالہ دیتاہوں جو اس دشمن اسلام کے الزام کا بنیاد بنتی ہے،  اور حدیث قرآن حکیم کی طرف سے سمجھائے ہوئے ”اصلاح کائنات“ کے فلسفہ کی جڑ  اکھیڑ  کر رکھ دینی ہے۔
 ویسے اس حدیث بنانے والوں کا غرض و غایت بھی کثیر الجہالت سے اسلام کی بیخ کنی کرنا مقصود ہے،
 جو اس میں جناب رسول علیہ السلام کے ہجرت والے انقلابی عمل میں ساتھ دینے والے انقلابی ساتھیوں اصحاب رسول کے کردار کشی کی بھی تلمیح کی گئی ہے۔
 یہ حدیث امام بخاری نے اپنی کتاب جس
کو ان لوگوں نے صحیح کا لقب دیا ہوا ہے اس کے شروع شروع میں پہلے نمبر پر لائی ہے۔

 حدیث کا متن ہے
:
 سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری‎ مانوی فمن کانت ھجرته الی دنیا یصیبھا اوالی امرآةینکحھافھجرته الی ماھاجر الیه

ترجمہ
:
 اعمال (کے نتائج) نیتوں سے ہیں،  ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔  پھر جس کی نیت ہجرت کرنے سے دنیا کے لئے ہوگی وہ اسے ملے گی،  یا اگر عورت کے لئے ہوگی تو وہ اس سے نکاح کرے گا پھر ہر کسی کی ہجرت اسی چیز والی شمار کی جائے گی جس کے لئے ہجرت کی ہوگی۔ (ترجمہ ختم)

Sunday, August 26, 2012

بخاری کی پہلی حدیث انما الاعمال بالنیات ہی صحابہ دشمنی پر مبنی ہے


بخاری کی پہلی حدیث  انما الاعمال بالنیات  ہی صحابہ دشمنی پر مبنی ہے

سمعت عمر بن الخطا ب رضی اللہ عنہ علی المنبر یقول سمعت رسول اللہ صلے اﷲ علیہ و سلمیقول انما الاعمال بالنیات وانمالکل امرأ مانویٰ فمن کانت ہجرتہ‘ الی دنیا یصیبھا او الی امرأۃ ینکحھا و ہجرتہ‘ الی مآ ہاجر الیہ ۔
 ( کتاب بخاری کی پہلی حدیث ) 

:  خلاصہ
 اس حدیث میں راوی حضرت عمرؓ کے حوالہ سے حضوؐر کی طرف منسوب کی ہوئی حدیث بیان کررہا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہوگا جس کی وہ نیت کرے گا ۔ پھر جس کی ہجرت دنیا کے حصول کے لئے ہوگی وہ اس کو پائے گا یا جس کی ہجرت کسی عورت کے لئے ہوگی تو وہ اس سے نکاح کرے گا۔یعنی جس کسی کی ہجرت جس کے لئے ہوگی وہ اسی کا مہاجر کہلائے گا ۔
  : تبصرہ
 راوی  صاحب کے رویوں اور رجحانوں کو قارئین کرام گنتی کرتے اور نوٹ کرتے چلیں ۔
بخاری صاحب اپنی کتاب مجموعہ احادیث کی شروعات اس حدیث سے فرمارہے ہیں جس سے پڑھنے والوں کے ذہنوں میں یہ تاثرات قائم ہوں کہ رسول صلے اﷲ علیہ و سلم جیسی عظیم المرتبہ ہستی بھی اپنے انقلابی اصحاب کرامؓ کے ہجرت جیسے زبردست کارنامہ اور قربانی سے کلی طور پر مطمئن نہیں تھے ۔
 جبھی تو ہجرت کو اقسام میں بانٹ کر بعض غیر مخلصین ، دنیا کے پرستاروں اور عورتوں کے حصول کے لئے ہجرت کرنے والوں کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں، کہ کچھ لوگوں کی ہجرت ایسی بھی تھی۔
انقلابیوں کی نظر میں ہجرت کی اہمیت کم کرنے کی حدیث سازوں کی سازش:

21 - عمرہ کا بیان : (115)
مکہ میں جنگ کرنا حلال نہیں ہے، ابوشریح نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ وہاں خونریزی نہ کرے ۔

حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال النبي صلی الله عليه وسلم يوم افتتح مکة لا هجرة ولکن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا فإن هذا بلد حرم الله يوم خلق السموات والأرض وهو حرام بحرمة الله إلی يوم القيامة وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبلي ولم يحل لي إلا ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله إلی يوم القيامة لا يعضد شوکه ولا ينفر صيده ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها ولا يختلی خلاها قال العباس يا رسول الله إلا الإذخر فإنه لقينهم ولبيوتهم قال قال إلا الإذخر

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1730               حدیث متواتر حدیث مرفوع       مکررات 34 متفق علیہ 19 بدون مکرر
 عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن مکہ فتح کیا تو فرمایا کہ ہجرت باقی نہ رہی۔ لیکن جہاد اور نیت ہے، جب تم جہاد کرنے کے لئے بلائے جاؤ تو جہاد کے لئے نکلو۔
 یہ شہر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی حرمت قیامت تک قائم رہے گی، اس میں شک نہیں کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھی اور میرے لئے بھی دن کے ایک حصہ میں حلال کی گئی اس کی حرمت قیامت تک قائم رہے گی، اس کا کانٹا نہ کاٹا جائے اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے اور نہ یہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے مگر وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو اس کی تشہیر کرے، اور نہ وہاں کی گھاس اکھاڑی جائے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سناروں اور گھروں کے لئے اذخر کی اجازت دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اذخر کی اجازت ہے۔

Friday, August 24, 2012

حدیث سازوں کی ازواج رسول ﷺ کو گالیا ں دینے کی ہنر مندی اورفن کاری


حدیث سازوں  کی ازواج رسول ﷺ کو گالیا ں دینے کی ہنر مندی اورفن کاری

علم حدیث کی آڑ میں تبرا : گالیا ں دینے کی ہنر مندی اورفن کاری

امہات المومنین پر شرمناک تبرا

عن ام سلمہ رضی اللہ عنھا ان النبی صلے اﷲ علیہ و سلم استیقظ لیلۃ فقال سبحان اللّٰہ ماذا انزل اللیلۃ من الفتنۃ ماذا انزل من الخزائن من یو قظ صواحب الحجرات یا رب کاسیۃ فی الدنیا عاریۃ فی اآاخرۃ
بخاری باب نمبر718تقصیر الصلوٰۃ حدیث نمبر1054صفحہ نمبر444ناشر مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور ۔

ترجمہ :
 ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐ ایک رات جاگے تو فرمایا ، سبحان اللہ! کیا کیا فتنے اور کیا کیا خزانے رات کو اُتارے گئے ہیں ۔ ہے کوئی شخص جو ان حجرے والی عورتوں کو جگا دے ۔ بہت ہی عورتیں دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں لیکن آخرت میں ننگی ہونگی ۔

Sunday, August 19, 2012

یہ حدیث ساز فحش گوئی میں بھی امام نکلے !


یہ حدیث ساز فحش گوئی میں بھی امام نکلے !

جناب قارئین!
 میں کیا کیا عرض کروں کہ یہ امام لوگ کس کوالٹی کے لوگ ہیں اور ہر ایک اپنے انداز گفتگوسے بھی پہچانا جاتا ہے۔

 اب آپ حدیث نمبر442اسی کتاب الاثار کی ملاحظہ فرمائیں جو امام محمد روایت کرتے ہیں اپنے استاد امام ابو حنیفہ سے کہ

 اخبر نا ابو حنیفہ عن رجل عن عمر بن خطابؓ انہ قال لامنعن فروج ذوات الاحساب الامن الاکفاء
 (باب تزویج الا کفاء وحق الزوج علی زوجیہ)

 حدیث کی سند میں ایک مجہول اور بغیر نام کے کسی شخص سے ابو حنیفہ روایت کرتے ہیں جس نے روایت براہ راست عمر بن الخطاب سے کی ہے فرمایا کہ

 
میں ان با حیثیت فرجوں کو ضرور روکوں گا شادی کرنے سے، سوائے ان کے جن کے شوہر بھی ان کے ہم مرتبہ ہوں ۔

Friday, August 17, 2012

ام المؤمنین عائشہؓ ، بمبئی کی فلمی دنیا کی زیب النساء اور مولوی، مولانا، دستاربند عالم دین، فاضل درسِ نظامی

ام المؤمنین عائشہؓ ، بمبئی کی فلمی دنیا کی زیب النساء اور مولوی، مولانا، دستاربند عالم دین، فاضل درسِ نظامی

انتساب
میں اپنی یہ کتاب بمبئی فلم اسٹوڈیو کی فلمی اداکارہ
زیب النساء
کے نام سے منسوب کرتا ہوں۔

ہندوستان کی فلم سازی کی تاریخ میں 1935 ؁ء سے لے کر 1945 ؁ء تک کا عشرہ تہلکہ خیز رہا ہے۔ اس عرصہ میں فلم سازی کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت پر فائز اس مرکز میں زیب النساء، سنیما کے پردۂ سیمیں پر شہرت پا چکی تھی۔ یہ شہرت کوئی نیکی کے کاموں کی بدولت نہیں تھی۔ ویسے بھی نیک نامی والی شہرت کا ملنا فلمی ماحول میں محال ہوتا ہے ، کیوں کہ فلمی ماحول ایک طرح کا بازار گناہ ہوا کرتا ہے۔ لیکن زیب النساء نے تو واقعتاً ایسے گناہوں کو گویا جونا مارکیٹ میں رہتے ہوئے بھی نیکی اور غیرت ایمانی کی مثال قائم کردی اور نیک نامی کما کر دکھا دیا۔ اس کا کارنامہ یہ ہے کہ اس کو فلم انڈسٹری کے کسی ماہر شخص نے کہا کہ تیرا نام تو کسی ماسٹرنی جیسا لگتا ہے ، تو اس نام کو بدل کر اپنا نیا نام ’عائشہ ‘ رکھ لے۔ زیب النساء نے جواب میں اسے کہا کہ یہ تو ایک عظیم ہستی کا مقدس نام ہے، یہ تو ام المؤمنین زوجۂ رسولؐ اﷲ کا نام ہے،آپ مجھ جیسی گناہ آلود ہ بازاری کردار والی عورت پر ایسا نام رکھنا چاہتے ہیں۔ پھر آگے کی کہانی تو آپ کو کہنہ مشق قلم کار شورش کاشمیری، مدیر مجلہ ’چٹان، لاہور‘ کی زبانی سنیں۔

Saturday, August 11, 2012

نظم : کمزور ایمان


نظم :  کمزور ایمان
اللہ ہے معبود اور محمدؐ رسول ہیں
یہی دو ہستیاں ہیں ، جو قابلِ قبول ہیں
جو کلمہ پڑھ کے اِن کا ، کہیں اور جا رہے ہیں
شیطان کے ہاتھوں ، وہ دھوکہ کھا رہے ہیں

نظم : مومن اور بہروپیے


نظم : مومن اور  بہروپیے 

بہروپیے بہت ہیں ، مذہب کے میدان میں
قصے کہانیاں دوڑتے ہیں ، اِن  کی رگ و جان میں

مومن ہیں صرف وہ ، جن کی جان ہے قرآن میں
نظر آتی ہے نجات اِن کو ، اللہ کے فرمان میں

نظم : آپ کے خلاف مقدمہ


نظم : آپ کے خلاف مقدمہ

کبھی سوچا ہے ، کیوں آیا ہے ، اس جہان میں
عبادت کے لیے بنا ہے تُو ، یہ رکھ دھیان میں
عبادت بھی ہو ایسی ، جو ہو قرآن کے مطابق
ورنہ تم ہو گے اور فرشتوں کے ہاتھ میں چابک

دُنیا اور آخرت دا دُکھ


دُنیا اور آخرت  دا  دُکھ
دُکھ درداں دی تھوڑ وی کوئی نہی
اَگ پانی دا جوڑ وی کوئی نہی

اللہ دے ہندیاں ، اللہ کافی اے
کِرے ہور ویکھن دی ، لوڑ ہی کوئی نہی

شرک شرارے از قلم : ناصر محمود


شرک  شرارے

نبی تو آئے تھے شرک مٹانے ، خدا کی طرف جھکانے کو
خدا کے لیے باتیں بتائیں ، نہ لوگوں سے میٹھا کھانے کو

کوئی پوجے چڑھتے سورج کو ، کوئی پوجے چندا ماموں کو
کوئی پیٹ پجاری ہے ، وہ پوجے میٹھے آموں کو

امر بالمعروف و نہی عن المنکر


امر  بالمعروف و نہی عن المنکر

جو مانگنا ہے ، مانگ اللہ سے ، کیوں اللہ سے شرمائے
ہدایت ہے سب سے بہتر نعمت ، خود اللہ ہی فرمائے

قرآن ہی وہ کتاب ہے ، جو سیدھی راہ دکھائے
چھوڑ قرآن کیوں تُو ، در غیر پہ دھکے کھائے؟

قرآن ایک آسان کتاب ، اللہ ہی فرمائے
جو کہے ، یہ ہے مشکل ، دماغی علاج کرائے

بے سمجھے کی تلاوت سے ، تُو خُوب ثواب کمائے
پڑھے تُو نہ ترجمہ ، شیطان جشن منائے

اجازت تو تھی نہ ایسی ، کہ اُمت بیٹھ جائے
شیطان کو ملا موقعہ ، گمراہی کے تیر چلائے

ہے ایسے مجاہدوں کی ضرورت ، جو قرآن لے کر آئیں
سوئی اُمتِ مسلمہ کو ، پکڑ کان اُٹھائیں

از قلم : ناصر محمود

سجے ہیں صرف جسم ، دل آباد ہی نہیں


سجے  ہیں صرف جسم   ،  دل آباد  ہی نہیں

نبیؐ نے دین کو ، نہ ذریعہ معاش بنایا
نہ کسی سے مانگا
، نہ کسی کا کھایا

اصحابِ رسولؐ کا بھی ، تو یہی حال تھا 
خدا کے لیے جان اور اپنا مال تھا 

خدا کی کتاب ، وہ صبح شام پڑھتے تھے 
نہ کہانیاں سنتے ، نہ فرضی قصے گھڑتے تھے

یہ سنت کسی کو ، یاد ہی نہیں
سجے ہیں صرف جسم ، دل آباد ہی نہیں

از قلم : ناصر محمود

جنت و دوزخ از قلم : ناصر محمود


جنت  و  دوزخ

دیکھ پیارے کر محنت ، خدا کی پسند کی آج
کل مالک بن کے جنت کا ، کرے گا حُوروں پہ راج

محنت ایسی ہو ، جو ہو ٹھیک قرآن کے مطابق
ورنہ تُو ہو گا اور فرشتوں کے ہاتھ میں چابک

کیسی قسمت ماڑی


  کیسی  قسمت  ماڑی

بے سمجھے قرآن پڑھ کے ، ماری اپنے ہی کلہاڑی
لگائی شیطان سے دوستی ، خدا سے صرف بگاڑی

جس نے بھی ایسا کیا ، اُس نے کسی کا کیا بگاڑا
اپنے ہاتھوں سے لکھی اپنی ، کیسی قسمت ماڑی

کر لے لاڈ جتنے مرضی ہیں ، بن کے اُمت پیاری
آ سمجھ جاۓ گی ساری ، جب فرشتوں نے کُٹ چاڑی

جنت چاہتے ہو پیارے ، تو قرآن کا ترجمہ پڑھو
بے سمجھے قرآن پڑھ کے ، نہ شیطان کے ہتھے چڑھو

قرآن کتاب ہدایت کی ہے ، صرف ثواب کے لیے نہیں
جس طرح تو پڑھتا ہے ، اِس کے لیے نہیں

از قلم : ناصر محمود

آؤ سمجھیں قرآن کو


آؤ سمجھیں قرآن کو

نبی تو لے کے آئے تھے ، قرآن دوستو
ہم ہیں خوش ، قصے کہانیوں پہ دوستو

کون ہے جو کہتا ہے ، قران کو تو سمجھو
میرا سلام اُسے ، پیش کرو دوستو

کوئی دین کا بیوپاری ، کوئی پیٹ کا پجاری
وہ کون ہے بھائیو ، جو فکر کرے ہماری

جو قرآن کا نہ کہیں ، وہ کیا مذہبی راہنما ہیں
شیطان کے ساتھی ، وہ صرف ہیں مداری

قرآن وہ راہ دکھائے ، جو صراطِ مستقیم ہے
قصے کہانیاں تو ، شیطانوں کی تقسیم ہے
 
عشقِ رسول میں ، پڑھو ترجمہ قرآن کا
شیطان ہے ہمارا دشمن ، کرو فکر ایمان کا

فکرِ قرآن اصل میں ، فکرِ رسول ہے
 
یہی عشقِ رسول ہے ، جو خدا کو قبول ہے
 
 
ہم ہی تھے بے وقوف ، کیوں چھوڑا قرآن کو
کل سے نہیں ، آج سے ، آؤ سمجھیں قرآن کو

از قلم : ناصر محمود

اُمتِ مسلمہ کی دُعا

اُمتِ مسلمہ کی دُعا

قرآن بنایا تو نے اپنا ، کتنا ہی آسان
ہم نہ سمجھے ، ہم نہ سمجھے ، نکلے ہم نادان

ہر غلطی کا ، ہر غلطی کا ، کرتے ہیں اقرار
شیطان کے ساتھی بن بیٹھے ، بھول گئے قرآن

دے دے اللہ ، دے دے اللہ ، ہم سب کو قرآن
جس سے راضی ، تو ہو ہم سے ، دے ایسا ایمان

ایسے ہم سے کام کرا ، تو ہو جن سے راضی
شیطان ہم سے کھیل رہا ہے ، جیت نہ جائے بازی

ہم کو بنا دے دنیا بھر کے نیکوں کا امام
تجھ کو کر لیں راضی ہم ، کر کے اچھے کام

دے دے دنیا ،  دے دے جنت ، سب کچھ دے دے ہم کو
صبح کا بھولا ، بھولا نہیں ، جب گھر وہ لوٹے شام

دے دے اللہ ، دے دے اللہ ، ہم سب کو تو معافی
دنیا میں جو ذلت کمائی ، ہمارے لیے ہے کافی

سمجھا  نہیں  قرآن  جو  ،  اُس  کا  غم  ہی  کھاتا جائے
اب رحمت تیری ،  رحمت تیری ،  رحمت  بھاگی  آئے
کر قبول دُعا ہماری اور کدھر ہم بھاگیں
صدیوں لمبی نیند کے بعد ، آخر ہم بھی جاگیں

از قلم : ناصر محمود

ناکام مسلمان از قلم : ناصر محمود

ناکام مسلمان

بنایا تجھے خدا نے ، محافظ قرآن کا
پڑھتا کیوں نہیں تُو ، ترجمہ قرآن کا

جگانا تھا انسانیت کو ، خود سویا پڑا ہے تُو
خیال نہیں ذرا بھی ، خدا کے پیغام کا

بے سمجھے کی تلاوت سے ، ثواب کمائے گا
دشمن تیرا شیطان ، خوشیاں منائے گا

کرتا ہے بیان تُو ، صرف عظمتیں قرآن کی
شیطان ہے تیرا دُشمن ، کر فکر ایمان کی

روتا ہے ہر وقت رونا ، اپنی ناکامیوں کا
لگاتا نہیں حساب ، اپنی نادانیوں کا

قرآن سمجھے بغیر تُو ، ہدایت نہ پائے گا
بن ہدایت کیسے ، جنت میں جائے گا

ناکام مسلمان از قلم : ناصر محمود

ہدایت کی کتاب، قرآن

ہدایت کی کتاب،  قرآن
سب کتابیں چھوڑ کے ، پکڑ لے قرآن
ہدایت صرف قرآن کے اندر ، ہے اللہ کا فرمان
کب ُسدھرے گا تُو ، جب نکلے گی جان
پھر فائدہ نہ ہو گا کچھ ، آج لے تو مان

قرآن کا مقصد
بے سمجھے کی تلاوت کر کے ، ثواب کمائے تُو
کیایہی مقصد قرآن کا تھا ؟ اتنا تو جان تُو
کب سُدھرے گا ، کب سُدھرے گا ، کب سُدھرے گا تُو
شیطان ہے تیرا کھُلا دشمن ، اتنا تو مان توُ

دوزخ اور بچے
اپنے اپنے بچوں کو ، لے کے دو قرآن
پڑھو ترجمہ پڑھائو ، بچوں کو میری جان
میرا نہیں ، یہ ہے اللہ کا فرمان
بچو دوزخ سے بچائو ، بچوں کو میری جان

از قلم : ناصر محمود

Monday, August 6, 2012

دُعا کے متعلق (حصہ آخری)


دُعا کے متعلق از قلم  :عبدالکریم اثری

س21:۔ کافر، مشرک اور منافق بھی اللہ سے دعائیں کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں بھی قبول کرتا ہے؟ اگر کرتا ہے تو کیا وہ ان کی اس برائی میں شریک نہیں ہوتا؟

دُعا کے متعلق (حصہ چہارم)


دُعا کے متعلق از قلم  :عبدالکریم اثری

س16:۔ نماز کے اندر دعا مانگنے اور نماز سے باہر دعا مانگنے میں کیا فرق ہے؟ نیز دعا کا بہترین طریقہ کونسا ہے؟