Showing posts with label صحیح بخاری. Show all posts
Showing posts with label صحیح بخاری. Show all posts

Monday, November 26, 2012

وحی غیر متلو و مثله معه پر حاکم محدثوں کے متعارض اقوال




وحی غیر متلو  و مثله معه  پر حاکم محدثوں کے متعارض اقوال


ایک ہی محدث کے حدیث کی تصحیح میں متعارض اقوال۔ کونسا لیا جائے ؟


السلام علیکم

کبھی ایک ہی محدث کے حدیث کی تصحیح میں متعارض اقوال سامنے آتے ہیں۔ کونسا لیا جائے۔ جیسے

Saturday, November 24, 2012

احادیث کے نام پر قران کو مشکوک بنانے کی کوشش



احادیث کے نام پر قران کو مشکوک بنانے کی کوشش


نوشاد احمد نےلکھا۔

احادیث کے نام پر قران کو مشکوک بنانے کی کوشش

لاہور سے اہل حدیث حضرات کا ایک ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام ہے ’’رشد ‘‘سرپرست ہیں اس کے جناب حافظ عبد الرحمٰن مدنی ۔جون ۲۰۰۹ میں اس کا قراات نمبر حصہ اول شائع ہوا جس میں بتایا گیا ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں قران کرم کی جو قرات رائج ہے وہ براویت حفص ہے جبکہ مختلف اسلامی ممالک میں اس قرات کے بر عکس ’’روایت ورش ‘‘ ’’روایت دوری‘‘اور روایت قالون ‘‘میں بھی قران مجید کے نسخے موجود ہیں اور یہ لوگ صدیوں سے روایت حفص کے بجائے ان قراتوں کے ساتھ قران مجید پڑھتے چلے آرہے ہیں۔اور قران مجید کی یہ مختلف قراتیں احادیث سے ثابت ہیں ۔کیوں کہ ان حضرات کے نزدیک قران مجید اللہ نے سات حروف پر نازل کیا ہے اور اس سات حروف سے مراد اس کی سات مختلف قرائتیں ہیں اس لیئے قران مجید کو ان سات میں سے جس قرات کے ساتھ بھی پڑھا جائے درست ہے ۔قران مجید سات حرفوں میں نازل ہونے کے بارے میں کئی احادیث بھی ہیں ہم صرف یہاں ایک دو احادیث نقل کرتے ہیں۔

Sunday, November 18, 2012

مسلم کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف



مسلم کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف

حدثنا عمرو بن علی قال حدثنا عبد الاعلی قال حدثنا ھشام بن ابی عبد اللہ عن ابی الزبیر عن جابر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رای امرءۃ فاتی امرءتہ زینب وھی تمعس منیئۃ فقضی حاجتہ ثم خرج الی اصحابہ فقال ان المرءۃ تقبل فی صورۃ شیطان و تدبر فی صورۃ شیطان فاذا بصر احدکم امرءۃ فلیات اھلہ فان ذالک یرد ما فی نفسہ---
 مسلم جلد اول ص 449---
 قدیمی کتب خانہ کراچی---
 صحابی جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو اپنی بیوی زینب کے پاس آئے اور وہ اس وقت کوئی کھا ل صحیح کر رہی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی پھر باہر صحابہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا عورت شیطان کی صورت میں آگے اور پیچھے آتی ہے اس لئے اگر آپ کسی عورت کو دیکھیں تو اپنی بیوی کے پاس آئیں کیوں کہ وہ آپ کے نفس میں جو کچھ ہے اس کو ختم کرتی ہے---

بخاری کا لطیفہ



بخاری کا لطیفہ

بھڑیئے نے اور گائے نے بولا اور باتیں کی ---
انسانوں سے انسانی زبان میں ---
بخاری کا لطیفہ ---
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال بینما رجل راکب علی بقرۃ التفتت الیہ فقالت لم اخلق لھذا خلقت للحراثۃ قال اامنت بہ انا و ابوبکر و عمر و اخذ الذئب شاۃ فتبعھا الراعی فقال لہ الذئب من لھا یوم السبع یوم لا راعی لھا غیری قال اامنت بہ انا و ابوبکر و عمرقال ابو سلمۃ و ما ھما یومئذ فی القوم ---
 بخاری جلد اول ---
ص 312-ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص گائے پر سوار تھا تو گائے نے اس کی طرف منہ کرکے بولی میں اس کے لئے پیدا نہیں کی گئی میں تو کھیتی باڑی کے لئے پیدا کی گئی ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور ابوبکر اور عمر اس پر ایمان لائے -اور ایک بھیڑیئے نے ایک بکری کو اٹھایا تو چرواہا اس کے پیچھے لگا تو بھیڑیئے نے اس سے کہا کہ --سبع والے دن-- جس دن ان کا کوئی چرواہا نہیں ہوگا ،میرے سوا ---اس دن ان کی کون حفاظت کرے گا ---

بخاری کا صریح جھوٹ--- سات سال سخت ترین قحط


بخاری کا صریح جھوٹ--- سات سال سخت ترین قحط

قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین یغشی الناس ھذا عذاب الیم---
سورہ دخان—
اس آیت کا تفسیر کرتے ہوئے پورے ایک پیج پر چار روایتوں مین اس کا تفسیر بیان کیا ہے ----
بخاری جلد 2، ص 714 ، تفسیر سورہ دخان------
جس میں فرماتے ہیں صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود کی وساطت سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ پاک سے قریش کے خلاف دعا مانگی کہ اے اللہ ان قریش کو ، یوسف علیہ السلام کی سات سالوں کی طرح سات سال قحط میں مبتلا کر اور پھر اللہ نے یہ دعا قبول کرتے ہوئے قریش کو قحط مین مبتلا کیااور سخت قحط ہوا کہ قریش نے ہڈیاں اور مردار کھاتے تھے اور وہ قحط اتنا سخت تھا کہ بھوک کی وجہ سے آنکھوں کے آگے کافروں کو اندھیرا اور دھواں چھاجاتا تھااور آسمان تک ان کو دھواں نظر آتا تھا تو اس اندھیرے اور دھویں کا ذکر کیا ہے اللہ پاک نے اس آیت مبارکہ میں یعنی یوم تاتی السماء بدخان مبین میں دخان مبین سے یہ مراد ہے ---

Saturday, November 17, 2012

”صحیح بخاری میں روایت شدہ ،ابتدائے وحی کے بیان میں ورقہ بن نوفل کے پاس جانے والے واقعہ پر اعتراض کاجائزہ “کا جواب



صحیح بخاری میں روایت شدہ، ابتدائے وحی کے بیان میں ورقہ بن نوفل کے پاس جانے والے واقعہ پر اعتراض کاجائزہ  کا جواب

پہلے  عادل سہیل کا مضمون پڑھ لیں،  پھر مضمون کا جواب پڑھ لیں۔

بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
بِسّم اللہِ و الحَمدُ لِلہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہُ والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاء نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جس نے نفس کی خواہش کے مطابق بات نہیں کی اور جس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی
چند ہی روز پہلے میں نے صحیح بخاری کی وہ روایت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر وحی کے نزول کی ابتداء کا واقعہ بیان ہوا ہے ،وحی کے نزول کی ابتداء کے واقعہ کی روایات صحیح بخاری میں تین مختلف کتب کے ابواب میں مروی ہے ، جن میں سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ، کتاب التعبیر کے پہلے بات والی روایت کے ایک اضافی حصے کی بنا پر اس واقعے کو مشکوک بنایا جاتا ہے اور اس پر اور پھر اسے بنیاد بنا کر صحیح بخاری اور دیگر کتب احادیث پر اعتراضات کیے جاتے ہیں ، اُس روایت کے بارے میں پائے جانے والے شک ، اور اس شک کی بنا پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب بعنوان ’’’’’صحیح بخاری کی ایک روایت میں اضافی حصے کی تحقیق ‘‘‘‘‘ پیش کیا تھا ،اُس کی تفصیل وہاں پڑھی جا سکتی ہے ، اس جواب کے بعد بھتیجے عبداللہ حیدر کی طرف سے یہ خبر کی گئی کہ کچھ لوگ اِس روایت پر اس لیے بھی اعتراض کرتے ہیں ، اور اس لیے بھی اس کا انکار کرتے ہیں کہ اس روایت میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ورقہ بن نوفل کے پاس جا کر اس سے کچھ دریافت کرنا سُورت یونس کی آیت رقم 94 کے خلاف ہے ، لہذا یہ واقعہ سچا نہیں ،